data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شاعر مشرق علامہ اقبال کے بقول
؎ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے، وہاں بدقسمتی سے کتاب سے دوستی کا رشتہ کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے، اس رشتے کو مضبوط ومستحکم کرنے کیلئے ڈاکٹر سعدیہ کمال نے اپنے تئیں ایک سعی کی ہے، ڈاکٹرسعدیہ کمال کی کتاب’’تریمت کتھا‘‘ملک کی پانچ قومی زبانوں سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور پشتو کے نثری ادب تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ تریمت کتھا(عورت کہانی) کی اشاعت پر ڈاکٹر سعدیہ کمال ستائش کی مستحق ہیں کیونکہ یہ تصنیف یقیناً ہمارے ہاں ادبی محققین کو تحقیق کے نئے زاویئے فراہم کرنے کا باعث بنے گی۔
گزشتہ دنوں کراچی پریس کلب کے اشتراک سے سینئر صحافیوں عبدالرحمٰن، خورشید انجم، نصیر احمد، سعید انور بونیری اورشائستہ بخاری نے ڈاکٹر سعدیہ کمال کی کتاب’’تریمت کتھا‘‘کی پروقار تقریب کا اہتمام کیا۔ کراچی پریس کلب میں استاذ صحافت ڈاکٹر توصیف احمد کی زیر صدارت منعقدہ عظیم الشان تقریب میں مہمان خصوصی عثمان جامعی، ڈاکٹر محبوب تابش، قاضی آصف اور نسرین گل تھے جبکہ نظامت کے فرائض فہمیدہ یوسفی نے انجام دیئے.
اس موقع پر سینئرصحافی طاہر نور، حمیداللہ عابد، کامریڈ رؤف خان لونڈ، ارشد بیگ، شبیر سومرو، کامران لاشاری، اختر شاہین رند، عبدالحفیظ عابد، نعیم اختر، حمید اشرفی،زاہد عباس خان، کرم اختر، شہر بانو، انیلہ عابد،رمضان قادر، راشد عزیز بھٹہ، خورشید پہوڑ، عابد خان ،خلیل فریدی، سعدیہ شکیل ،رضوان قلندری، حاتم خان ایڈووکیٹ، عابد بزدار ، شکیل کانگا ، انیس حیدر، عبداللہ سروہی ، راشد خان سمیت صحافیوں، ادیبوں و شعراء کی بھرپور شرکت نے تقریب کو چار چاند لگا دیئے.نسائی ادب پر تحقیقی کتاب تریمت کتھا کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے نسرین گل کا کہنا تھا کہ وسیب زادی ڈاکٹر سعدیہ کمال جہدِ مسلسل کا دوسرا نام ہے، ان کا خاصا ہے کہ جو سوچتی ہیں، وہ کر دکھاتی ہیں۔ نسرین گل نے کہا کہ تریمت کتھا کی صورت ان کی کاوش آج ہمارے سامنے ہے، پانچ زبانوں پر مشتمل افسانہ ونثر نگاری کی یہ کتھا جہاں خواتین لکھاریوں کی ادبی خدمات کو اجاگر کرتی ہے، وہاں یہ ڈاکٹر سعدیہ کمال کی خداداد صلاحیتوں کا اظہار بھی ہے. ڈاکٹر جے پال چھابڑیا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سعدیہ نے پانچ قومی زبانوں کے نسائی ادب کو کوزے میں بند کر دیا، نسائی نثرنگاری پر مبنی تریمت کتھا تحقیق کے نئے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ قاضی آصف نے کہا کہ خطے کے نسائی ادب پر یہ کتاب محققین اور نئے لکھنے والوں کیلئے تحقیق کے نئے زاویئے فراہم کرے گی، ڈاکٹر سعدیہ کمال کی تریمت کتھا نسائی ادب کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی. تسلیم اکرام کا کہنا تھا کہ پانچ تہذیبوں، ثقافتوں اور قومی زبانوں کا مجموعہ تریمت کتھا نسائی ادب پر بہترین تخلیق ہے جو مسقبل کی نثر نگاری میں اہم کردار ادا کرے گی. محقق وادیب ڈاکٹر محبوب تابش نے کہا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں نسائی ادب میں تریمت کتھا کی صورت ایک بہترین اضافہ کر کے ڈاکٹر سعدیہ کمال نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، ان کی یہ تحقیق و تخلیق ایک اچھوتا موضوع ہے جو نثر نگاری بالخصوص نسائی ادب کے فروغ میں معاون ومدد گار ثابت ہوگی.معروف شاعر وادیب عثمان جامعی کا کہنا تھا کہ میں ڈاکٹر سعدیہ کمال کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اور مجھ جیسے کتنے ہی قارئین کو ہمارے ملک کی بڑی زبانوں کے ادب کو کم از کم ایک لیکن بڑی جہت سے روشناس کرایا، نہایت اہم موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھتے ہوئے دل کش اور رواں زبان استعمال کرنے پر ڈاکٹر سعدیہ کمال اضافی ستائش کی مستحق ہیں کہ انہوں نے یہ کتاب محض چھپوانے کیلئے نہیں پڑھوانے کیلئے لکھی ہے، تریمت کتھا کی، مصنفہ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کراچی پریس کلب، مہمانان گرامی اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تریمت کتھا طلباء کے لئے تحقیق کرنے میں بنیادی حوالہ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر مرد ظالم ، حاکم اور جابر نہیں ہوتا اور اسی طرح ہر عورت مظلوم ، محکوم اور کمزور نہیں ہوتی ، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خواتین آج ادبی میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور انشااللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔تقریب کے صاحب صدر، استاذ صحافت ڈاکٹر توصیف احمد نے کہا کہ معاشرے میں عورت کے بغیر ترقی ممکن نہیں، لیکن سماج میں جہاں عورت کو تسلیم نہیں کیا جاتا وہاں عورت نے زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، تریمت کتھا واحد کتاب ہے، جس میں پانچ زبانوں کی خواتین افسانہ نگاروں کے افسانے اردو میں لکھے گئے، ڈاکٹر سعدیہ کمال کا یہ تحقیقی وتخلیقی کام نسائی ادب میں خوشگوار اضافہ ہے۔ڈاکٹر توصیف احمد نے کہا کہ گھر، آفس، صحافتی تنظیمی مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر سعدیہ کمال نے جس محنت و لگن سے نسائی ادب پرتحقیقی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایاوہ قابل داد ہے.ڈاکٹر سعدیہ کمال کی یہ کاوش تحقیق کے نئے در کھولے گی۔

نسرین گل

گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
ڈاکٹر سعدیہ کمال نے
ڈاکٹر سعدیہ کمال کی
کا کہنا تھا کہ
تحقیق کے نئے
صلاحیتوں کا
نے کہا کہ
نسرین گل
پڑھیں:
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء)
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی
فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
(جاری ہے)
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔