data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوجام (نمائند جسارت)سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان صوبائی سطح پر تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، پائیدار زراعت، ڈرائی لینڈ اور رینج لینڈ مینجمنٹ، فارسٹری، فوڈ سیکیورٹی، اور بارش و نکاسی? آب کے مؤثر اور سائنسی استعمال جیسے اہم زرعی و ماحولیاتی چیلنجز پر مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا ہے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط تفصیلات کے مطابق سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے سندھ زرعی یونیورسٹی جبکہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ریکی نے بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک معاہدے پر دستخط کیے اس کے مطابق یہ تعاون بالخصوص بلوچستان کے ناڑی بیسن اور ملحقہ علاقوں سے سندھ میں داخل ہونے والے پانی، مختلف قدرتی و مصنوعی نالوں اور ڈرینز کے ذریعے آنے والی نکاسی، بارش کے پانی کے ذخیرے، اور بارش و نکاسی کے پانی کو سائنسی بنیادوں پر زراعت میں استعمال کرنے کے امکانات پر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے طے پایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ میں فارسٹری کے فروغ اور بلوچستان کے رینج ایریاز میں رینج لینڈ مینجمنٹ پر مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں بھی اس مفاہمت کا اہم حصہ ہوں گی اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ بلوچستان کی مجموعی نکاسی آب کا تقریباً 25 فیصد حصہ چُکھی کے ذریعے سندھ میں داخل ہوتا ہے، جو حمل جھیل سے گزرتے ہوئے آر بی او ڈی کے راستے منچھر جھیل تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئی گاج اور حب ڈیم کے ذریعے بھی بلوچستان سے سندھ میں پانی آتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں صوبوں کے درمیان آبی، زرعی اور ماحولیاتی مسائل پر مشترکہ تحقیق اور تعلیمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی شدت کے باعث سندھ کا تقریباً نصف حصہ زیرِ آب رہا، جبکہ بعض علاقوں میں 1600 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔ ڈاکٹر الطاف علی سیال نے اس بات پر زور دیا کہ بارش اور نکاسی کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا، محفوظ ذخیرہ کرنا، نکاسی کے بہتر نظام تشکیل دینا، اور اس پانی کو زراعت میں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے مشترکہ سائنسی تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کے ماہرین بلوچستان میں ڈرائی لینڈ اور رینج لینڈ مینجمنٹ پر مشترکہ تحقیق کریں گے، جبکہ سندھ زرعی یونیورسٹی اپنے نئے متعارف کردہ فارسٹری ڈگری پروگرام کے تحت سندھ میں جنگلات کی ترقی کے لیے اپنی فنی اور تحقیقی مہارت فراہم کرے گی۔ معاہدے کے تحت فیکلٹی اور گریجویٹس کے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر بھی عمل کیا جائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ریکی نے کہا کہ وہ خود سندھ زرعی یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ وہ اپنے مادرِ علمی کے ساتھ قومی اہمیت کے حامل ایک مشترکہ تحقیقی منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے، خصوصاً معاشی دباؤ، موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں نوجوانوں کو مستقبل سے ہم آہنگ تعلیم دینا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے مارکیٹ کی ضروریات بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں صوبوں، محققین، طلبہ اور زرعی شعبے کے لیے طویل المدتی فوائد کی حامل ثابت ہوگی۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ زرعی یونیورسٹی پر مشترکہ تحقیق پروفیسر ڈاکٹر اور بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ

روم (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ ہوگیا۔

 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کی تقریب اٹلی وزارت خارجہ روم میں منعقد ہوئی۔ معاہدہ سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی اور روابط مضبوط کرے گا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا