سندھ زرعی یونیورسٹی اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کے درمیان معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-11-19
ٹنڈوجام (نمائند جسارت)سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے درمیان صوبائی سطح پر تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، پائیدار زراعت، ڈرائی لینڈ اور رینج لینڈ مینجمنٹ، فارسٹری، فوڈ سیکیورٹی، اور بارش و نکاسی? آب کے مؤثر اور سائنسی استعمال جیسے اہم زرعی و ماحولیاتی چیلنجز پر مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا ہے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط تفصیلات کے مطابق سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے سندھ زرعی یونیورسٹی جبکہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ریکی نے بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک معاہدے پر دستخط کیے اس کے مطابق یہ تعاون بالخصوص بلوچستان کے ناڑی بیسن اور ملحقہ علاقوں سے سندھ میں داخل ہونے والے پانی، مختلف قدرتی و مصنوعی نالوں اور ڈرینز کے ذریعے آنے والی نکاسی، بارش کے پانی کے ذخیرے، اور بارش و نکاسی کے پانی کو سائنسی بنیادوں پر زراعت میں استعمال کرنے کے امکانات پر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے طے پایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ میں فارسٹری کے فروغ اور بلوچستان کے رینج ایریاز میں رینج لینڈ مینجمنٹ پر مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں بھی اس مفاہمت کا اہم حصہ ہوں گی اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ بلوچستان کی مجموعی نکاسی آب کا تقریباً 25 فیصد حصہ چُکھی کے ذریعے سندھ میں داخل ہوتا ہے، جو حمل جھیل سے گزرتے ہوئے آر بی او ڈی کے راستے منچھر جھیل تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئی گاج اور حب ڈیم کے ذریعے بھی بلوچستان سے سندھ میں پانی آتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں صوبوں کے درمیان آبی، زرعی اور ماحولیاتی مسائل پر مشترکہ تحقیق اور تعلیمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی شدت کے باعث سندھ کا تقریباً نصف حصہ زیرِ آب رہا، جبکہ بعض علاقوں میں 1600 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔ ڈاکٹر الطاف علی سیال نے اس بات پر زور دیا کہ بارش اور نکاسی کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا، محفوظ ذخیرہ کرنا، نکاسی کے بہتر نظام تشکیل دینا، اور اس پانی کو زراعت میں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے مشترکہ سائنسی تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی اور بلوچستان ایگریکلچر کالج کے ماہرین بلوچستان میں ڈرائی لینڈ اور رینج لینڈ مینجمنٹ پر مشترکہ تحقیق کریں گے، جبکہ سندھ زرعی یونیورسٹی اپنے نئے متعارف کردہ فارسٹری ڈگری پروگرام کے تحت سندھ میں جنگلات کی ترقی کے لیے اپنی فنی اور تحقیقی مہارت فراہم کرے گی۔ معاہدے کے تحت فیکلٹی اور گریجویٹس کے تبادلے اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر بھی عمل کیا جائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلوچستان ایگریکلچر کالج کوئٹہ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق ریکی نے کہا کہ وہ خود سندھ زرعی یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ وہ اپنے مادرِ علمی کے ساتھ قومی اہمیت کے حامل ایک مشترکہ تحقیقی منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے، خصوصاً معاشی دباؤ، موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں نوجوانوں کو مستقبل سے ہم آہنگ تعلیم دینا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے مارکیٹ کی ضروریات بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں صوبوں، محققین، طلبہ اور زرعی شعبے کے لیے طویل المدتی فوائد کی حامل ثابت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ زرعی یونیورسٹی پر مشترکہ تحقیق پروفیسر ڈاکٹر اور بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم