ماحولیاتی تبدیلی کے ماہر درشہوار نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، اونچی عمارتوں کی تعمیر، نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور بڑھتی ہوئی اسموگ ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگرچہ ترقی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ماحول دوست منصوبہ بندی اور گرین انفراسٹرکچر بھی ناگزیر ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دنیا میں گرین اربن انفراسٹرکچر اور نیچر بیسڈ سلوشنز پر کام ہورہا ہے، لیکن پاکستان میں تعمیرات اب بھی ماحول دوست اصولوں سے بڑی حد تک لاتعلق ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، حکومت نے ماحولیاتی بحالی کے لیے وضاحت دے دی

’ایک درخت کاٹ کر اس کی جگہ نیا درخت لگانا وقت طلب عمل ہے، اس خلا کو ماحول دوست ڈیزائن کے ذریعے ہی پُر کیا جا سکتا ہے‘۔

انہوں نے کہاکہ پانی کے تحفظ پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ہمارے دریا اور آبی ذخائر نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دنیا میں ریور ریسٹوریشن کے کامیاب ماڈلز موجود ہیں، جن سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔ پانی ایک اجتماعی وسیلہ ہے، اسے ذاتی ملکیت سمجھ کر بے دریغ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

’آلودگی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں، بڑے شہروں میں مؤثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ناگزیر ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، کار پولنگ اور رویوں میں تبدیلی کاربن ایمیشن کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے‘۔

درِ شہوار نے کہاکہ انسانی سرگرمیوں، بے ہنگم اربنائزیشن، صنعتی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی کے باعث گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ ہوا، جس سے دہائیوں پرانے موسمی پیٹرنز تبدیل ہوچکے ہیں۔ پاکستان کی منفرد جغرافیائی ساخت جس میں پہاڑی سلسلے، گلیشیئرز، زرعی میدان، صحرائی علاقے اور ساحلی پٹیاں شامل ہیں اسے موسمیاتی خطرات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔

درِ شہوار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں گلاف (گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز)، شدید بارشیں، شہری سیلاب، ہیٹ ویوز اور اسموگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور کمزور طبقے کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں اب ماحولیاتی تبدیلی کو ریورس کرنے کے بجائے ایڈاپٹیشن اور پریپیرڈنس پر توجہ دی جا رہی ہے، تاہم جنوبی ایشیا کے ممالک کو کلائمیٹ فنانس، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی آگاہی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی تعمیرات، درختوں کی کٹائی اور اسموگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ترقی ضروری ہے، لیکن ماحول دوست گرین اربن انفراسٹرکچر اور نیچر بیسڈ سلوشنز کے بغیر یہ ترقی ماحولیاتی مسائل کو مزید بڑھا دے گی۔

زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فصلوں کی کاشت اور کٹائی کے موسم 20 سے 25 دن تک تبدیل ہو چکے ہیں، جس سے کسان براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر، جدید آبپاشی نظام، کلائمیٹ ریزیلینٹ بیج اور زرعی انشورنس جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

کلائمیٹ جسٹس کے حوالے سے دورِ شہوار نے کہاکہ اگرچہ بعض یورپی ممالک کلائمیٹ فنانس میں سنجیدہ کردار ادا کررہے ہیں، تاہم کئی بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے متاثرہ ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟

انہوں نے حکومت پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ کلائمیٹ چینج ایکٹ، وزارت، اتھارٹی اور پالیسیاں موجود ہیں، تاہم اصل چیلنج صوبائی اور ضلعی سطح پر مؤثر عملدرآمد ہے۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بطور ذمہ دار شہری توانائی اور پانی کے استعمال میں احتیاط، شجرکاری، فوڈ ویسٹ میں کمی، پبلک ٹرانسپورٹ اور کار پولنگ جیسے اقدامات کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسموگ کا راج درِ شہسوار گرین سٹی ماحولیاتی تبدیلی مارگلہ ہلز وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسموگ کا راج در شہسوار گرین سٹی ماحولیاتی تبدیلی مارگلہ ہلز وی نیوز درختوں کی کٹائی ماحول دوست انہوں نے نے کہاکہ

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا