Express News:
2026-06-02@22:17:53 GMT

موبائل بینکنگ، 3 ماہ میں 337 کھرب کے ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

کراچی:

چند سال قبل پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کو اپنانے کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے تھے، تاہم کووڈ19کے بعداور عالمی اداروں، بالخصوص بل اینڈملینڈاگیٹس فاؤنڈیشن کی معاونت سے ملک میں جدید بینکاری نظام تیزی سے فروغ پاچکا ہے،آج پاکستان میں 12 کروڑسے زائدصارفین ذاتی اور تجارتی لین دین کیلیے موبائل بینکنگ ایپس استعمال کر رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک کمرشل بینکوں کے 2 کروڑ 58 لاکھ صارفین موبائل بینکنگ استعمال کر رہے تھے،جبکہ ستمبر 2025 تک برانچ لیس بینکنگ کے موبائل ایپس استعمال کرنیوالوں کی تعداد 8کروڑ 79 لاکھ تک پہنچ گئی۔

اسی عرصے میں فن ٹیک اداروں کے صارفین کی تعداد 62 لاکھ 70 ہزارریکارڈکی گئی۔ اس وقت ملک میں 34 کمرشل بینک، 14 برانچ لیس بینکنگ ادارے اور 6 فن ٹیک الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنزکام کر رہی ہیں۔

صارفین موبائل ایپس کے ذریعے رقم کی منتقلی، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، ٹکٹوں کی بکنگ،آن لائن خریداری، ڈیجیٹل قرضے،موبائل ٹاپ اپ اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھارہے ہیں،جبکہ بڑی تعداد ایک سے زائد بینکنگ ایپس بھی استعمال کررہی ہے۔

سافٹ ویئر انجینئر اور موبائل ایپ آرکیٹیکٹ عبداللہ طارق کے مطابق اس رجحان کی بنیادی وجوہات میں اسمارٹ فونزاور انٹرنیٹ کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ساتھ بینکوں کی جانب سے موبائل ایپس کے فرنٹ اینڈاور بیک اینڈسسٹمز میں بھاری سرمایہ کاری شامل ہے،جس سے صارفین کاتجربہ بہتر ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ موبائل بینکنگ نے چندسیکنڈزمیں رقم کی منتقلی کوممکن بناکر بینکاری نظام کانقشہ بدل دیا ہے،جس سے وقت اور لاگت دونوں کی بچت ہورہی ہے۔ ڈیجیٹل بینکوں اور فن ٹیک اداروں کی جانب سے ڈیجیٹل انشورنس، سرمایہ کاری اور ارنڈ ویج ایکسس جیسی جدید سہولیات مستقبل میں لین دین کے حجم میں مزیدتیزی لائیں گی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران موبائل بینکنگ کے ذریعے 2 ارب لین دین ہوئے،جن کی مجموعی مالیت 337 کھرب روپے رہی، جو ڈیجیٹل چینلزکے ذریعے ہونیوالے کل لین دین کا 81 فیصد بنتی ہے۔

بینکاری اور مالیاتی ماہر ابراہیم امین کاکہناہے کہ راست پیمنٹ سسٹم اورکیو آرکوڈ ادائیگی جیسے اقدامات نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کوآسان اوربلا معاوضہ بنادیاہے،جس سے دکانداروں اور صارفین میں نقدرقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کارجحان بڑھاہے۔

ان کے مطابق کمرشل بینکوں کے صارفین عموماً بڑی رقوم کے لین دین کرتے ہیں،جبکہ برانچ لیس بینکنگ اور فن ٹیک صارفین کم مالیت کے لین دین کوترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے مزیدکہاکہ نوجوان، ٹیکنالوجی سے واقف آبادی موبائل بینکنگ کو ترجیح دے رہی ہے، تاہم بینکوں کو سیکیورٹی فیچرز بہتر بنانے اورصارفین کوآن لائن فراڈسے بچاؤکیلیے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق لین دین فن ٹیک

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان