ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سخت گیر حلقے جن کی قیادت اسٹیفن ملر کر رہے ہیں، حالیہ خفیہ آپریشنز کی کامیابی کے بعد اس قدر پرجوش ہیں کہ اب آرکٹک کے اس اسٹریٹجک جزیرے کو بھی طاقت کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ میں لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی میڈیا نے ایک ایسا دھماکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سب سے ایلیٹ یونٹ جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی کارروائی اور قبضے کا خفیہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سخت گیر حلقے جن کی قیادت اسٹیفن ملر کر رہے ہیں، حالیہ خفیہ آپریشنز کی کامیابی کے بعد اس قدر پرجوش ہیں کہ اب آرکٹک کے اس اسٹریٹجک جزیرے کو بھی طاقت کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ میں لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ تاہم امریکی نظام کے اندر ہی شدید مزاحمت سامنے آ گئی ہے رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ جنرلز اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اس منصوبے کو کھلے الفاظ میں غیر قانونی، ناقابلِ عمل اور تباہ کن قرار دے دیا ہے۔
عسکری قیادت کا مؤقف ہے کہ نہ تو کانگریس اس کی اجازت دے گی اور نہ ہی نیٹو اس کے نتائج برداشت کر سکے گا۔ ذرائع کے مطابق اس ممکنہ منصوبے کے پیچھے تین بڑے مقاصد بتائے جا رہے ہیں، جس میں امریکا میں معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانا، مڈٹرم انتخابات سے قبل ایک بڑی فتح دکھانا اور آرکٹک میں روس اور چین کے بڑھتے اثر کو روکنا شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔