اسحاق ڈار کی روضہ رسولؐ پر حاضری: جدہ قونصلیٹ کی نئی چانسلری کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
جدہ‘ مدینہ منورہ (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ روز جدہ میں قونصلیٹ جنرل پاکستان کی نئی چانسلری عمارت کا ایک باوقار تقریب میں افتتاح کیا۔ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، سعودی معززین، قونصل جنرل پاکستان جدہ سید مصطفیٰ ربانی، او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ممتاز پاکستانی شہریوں، قونصلیٹ کے افسروں اور عملے نے شرکت کی۔ نئی چانسلری عمارت کے احاطے میں قومی پرچم لہرایا گیا۔ لان میں شجرکاری کی گئی، فیتہ کاٹا گیا، یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی گئی اور پاکستان و سعودی عرب کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ مختصر ویڈیو رپورٹ بھی شرکاء کو دکھائی گئی۔ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مؤثر اور معیاری قونصلر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔عمارت اور اس میں موجود سہولیات کا جائزہ لینے کے بعد نائب وزیراعظم نے منصوبے کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ قونصلر خدمات اور دیگر آپریشنز جلد از جلد نئی چانسلری عمارت میں منتقل کیے جائیں۔ ادھر اسحاق ڈار نے مدینہ منورہ میں روضہ رسولؐ پر حاضری دی۔ اعلامیہ کے مطابق اسحاق ڈار نے نوافل ادا کئے اور پاکستان کی سلامتی، خوشحالی کے لئے دعا کی۔ اسحاق ڈار صومالی لینڈ تنازعہ پر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے نئی چانسلری
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔