ملک میں سردی کی شدید لہر جاری، ہنزہ میں پارہ منفی 20 ڈگری ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ملک بھر میں شدید ٹھنڈ کی لہر جاری ہے اور ہنزہ میں پارہ منفی 20 ڈگری تک پہنچ گیا۔عالمی موسمی ویب سائٹ کے مطابق ہنزہ میں کم سے کم منفی 20 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، اتوار کی صبح سویرےکوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک ریکارڈ کیا گیا۔اس کے علاوہ اسلام آباد میں 2 ڈگری، لاہور میں 3، پشاور میں 4 اور کراچی میں 7 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ادھر گلگت بلتستان کے علاقوں ہنزہ اور استور کے بالائی علاقوں میں خون جماتی سردی ہے جس کے باعث نظامِ زندگی متاثر ہورہا ہے۔دوسری جانب وزیر تعلیم سندھ نے سردی کے باعث اسکولوں میں آمد کے اوقات کار تبدیل کردیے، سرکاری اور نجی اسکول صبح 9 بجے کھولے جائیں گے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ فیصلے کا اطلاق پیر سے 26 جنوری تک رہےگا۔علاوہ ازیں پنجاب میں بھی تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے، ترجمان وزارت تعلیم پنجاب نے کہا ہےکہ عوام سے مشاورت کے بعد اب تعلیمی ادارے 19 جنوری سے کھلیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔