ملک بھر میں شدید سردی کی لہر برقرار، یخ بستہ ہواؤں کا راج
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ملک بھر میں شدید سردی کی لہر کے ساتھ ساتھ یخ بستہ ہواؤں نے موسم کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں کڑاکے کی سردی پڑنے لگی جہاں پارہ نقطہ انجماد سے بھی کئی درجے نیچے چلا گیا۔لہہ میں پارہ منفی 14، سکردو میں منفی 13 رہا، استور، گوپس منفی 10، ہنزہ، گلگت منفی 8، جبکہ قلات، بگروٹ میں منفی 6 اور دیر میں منفی 5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔اسلام آباد میں کم سے کم درجہ حرارت صفر ریکارڈ کیا گیا، پشاور اور مری میں 1، لاہور میں 3، کراچی میں 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے مراسلہ جاری کر دیا جس کے مطابق 16 جنوری تک پنجاب بھر میں سردی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔