کراچی(ویب ڈیسک) کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل اور بندرگاہ پر کنٹینروں کے دباؤ کے خاتمے کے لیے خوش آئند پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) نے ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک پِپری کے منصوبے پر عملی کام کا آغاز کر دیا ہے، جسے شہر کے دیرینہ لاجسٹک مسائل کا مؤثر اور دیرپا حل قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی بندرگاہ پر بذریعہ ریل مال برداری کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث کنٹینروں کا شدید رش معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک جام رہتا ہے بلکہ ترسیل کے نظام میں سست روی کے باعث معاشی سرگرمیاں بھی منفی طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔

ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک پِپری کی تعمیر سے بندرگاہ اور اندرونِ ملک ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، جس سے سڑکوں پر بوجھ کم ہونے کے ساتھ ساتھ مال برداری کا عمل تیز اور مؤثر ہو سکے گا۔

منصوبے کے ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی اور ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان احمد بن سولیم مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں سرکاری و نجی شعبے کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

این ایل سی اس منصوبے کو 400 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری سے مختلف مراحل میں مکمل کرے گا، جبکہ منصوبے کا پہلا مرحلہ چار ماہ میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف کراچی میں ٹریفک اور لاجسٹکس کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ قومی معیشت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا

لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری