ایس ای سی پی کی اصلاحات سے کمپنی رجسٹریشن میں ریکارڈ اضافہ، شفافیت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال WhatsAppFacebookTwitter 0 11 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز ) 0سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ڈیجیٹل اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں ملک میں کاروباری رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ اور کارپوریٹ شفافیت میں واضح بہتری آئی ہے۔ کمیشن کے مطابق اصلاحات کے بعد کاروبار شروع کرنے کا عمل نہ صرف آسان ہوا بلکہ تعمیلی اخراجات میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔


ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 کے مقابلے میں کمپنی رجسٹریشن میں مجموعی طور پر 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2024-25 کے دوران 35,087 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد 27,542 تھی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ، یعنی جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران 21,542 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
کمیشن کے مطابق 99.

9 فیصد کمپنیوں کا اندراج مکمل طور پر آن لائن نظام کے ذریعے کیا گیا، جس سے مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو گئی اور وقت و لاگت میں نمایاں کمی آئی۔ کمپنی رجسٹریشن کا عمل ایس ای سی پی کے جدید ای زی فائل (eZfile) نظام کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے، جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، ای او بی آئی اور صوبائی محکموں سمیت مختلف اداروں سے منسلک ہے۔

حکومت کے ون ونڈو نظام کے ساتھ انضمام کے بعد اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
ایس ای سی پی کی اصلاحات کو قومی اور عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ قومی ریگولیٹری اصلاحات کے اجرا کے موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایس ای سی پی کو “ریفارمز چیمپئن” قرار دیتے ہوئے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں ادارے کے کردار کی تعریف کی۔ اس سے قبل بھی وزیرِ اعظم کی جانب سے ایس ای سی پی کو یہ اعزاز دیا جا چکا ہے۔


عالمی سطح پر، ورلڈ بینک کی بزنس ریڈی 2024 رپورٹ میں پاکستان کو کاروبار کے آغاز کے اشاریے میں 50 ممالک میں چھٹا نمبر دیا گیا، جبکہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے سروے میں ایس ای سی پی کو گورنمنٹ ٹو بزنس ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی تیاری کے حوالے سے 65 وفاقی ریگولیٹری اداروں میں سرفہرست قرار دیا گیا۔


کمیشن کے مطابق شفافیت اور کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے کمپنیوں پر انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز (IFRS) کے مطابق مالیاتی رپورٹنگ اور تفصیلی انکشافات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے فریم ورک کو مضبوط کیا گیا، کارپوریٹ الٹی میٹ بینیفیشل اونر رجسٹری قائم کی گئی اور ایف اے ٹی ایف معیارات کے مطابق رسک بیسڈ نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔


سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ریگولیٹری نظام کے ذریعے کاروبار میں آسانی، شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے اصلاحات کا عمل آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمجاہد گروپ آف انڈسٹریز نے ملک میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے امپورٹر کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا مجاہد گروپ آف انڈسٹریز نے ملک میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے امپورٹر کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا ایران پر حملہ؟ ٹرمپ انتظامیہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ اسلام آباد: جی سیون ٹو میں شادی کی تقریب کے دوران سلنڈر دھماکہ، دلہا دلہن سمیت 6 افراد جاں بحق عوام سے غیرفعال 14 ہزار میگاواٹ بجلی کے 2.2 کھرب روپے وصول کیے جانے کا انکشاف پاکستان تحریک انصاف کو کل جلسہ کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی دو طرفہ تجارت کا فروغ: انڈونیشیا-پاکستان جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے قیام پر ا تفاق TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایس ای سی پی شفافیت اور

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر