پاکستانی میوزک انڈسٹری میں لیجنڈز گلوکاروں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، حمیرہ اصغر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
معروف پاکستانی پلے بیک گلوکارہ حمیرا چنا نے پاکستانی میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری اور جانبداری کے رویوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حمیرا چنا نے کہا کہ میوزک انڈسٹری میں اقربا پروری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مواقع چند مخصوص فنکاروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ تجربہ کار گلوکار مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں فیورٹ ازم عام ہے، بار بار انہی چند ناموں کے ساتھ کام کیا جاتا ہے اور دیگر فنکاروں کو پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی اس جانبداری کا سامنا کر چکی ہیں۔ حمیرا چنا کے مطابق یہ صورتحال افسوسناک ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے اور ضروری ہے کہ انڈسٹری تمام فنکاروں کو ساتھ لے کر چلے اور اصل صلاحیت کو ترجیح دے۔
لیجنڈ فنکاروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ ایک لیجنڈ ہیں مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ان لیجنڈز کے پاس کام بھی موجود ہے یا نہیں۔ جب کوئی فنکار دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو تب سب یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو انہیں فلاں گانا دے دیا جاتا، یا پھر کسی فنکار کے بیرونِ ملک سے واپس آنے پر اچانک اسے اسٹار بنا دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حمیرا چنا نے 90 کی دہائی میں فلمی گانوں کے ذریعے نمایاں شہرت حاصل کی، وہ نگار ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں اور صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے متعدد لوک کلام پاکستان ٹیلی وژن پر اپنی آواز میں پیش کر چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاتا ہے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔