data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکہ: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے سکیورٹی وجوہات کے باعث ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں نہ کھیلنے کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو دو روز قبل تفصیلی خط لکھا ہے اور اب آئی سی سی کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

بی سی بی نے خط میں بھارتی وینیو میں کھیلنے کے ممکن نہ ہونے کی تمام وجوہات اور ثبوت تفصیل کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ بی سی بی کے صدر امین الاسلام کا کہنا ہے کہ تمام ضروری دستاویزات آئی سی سی کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں اور بورڈ حکومت کی ہدایات کے مطابق اپنا مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔

امین الاسلام نے کہا کہ آئی سی سی کے جواب کے بعد ہی مستقبل کے فیصلے ہوں گے اور اس وقت واضح نہیں کہ میچز بھارت کے علاوہ کسی متبادل وینیو پر منتقل ہوں گے یا نہیں،بنگلا دیش ٹیم ٹی ٹوئنٹی میں اچھا پرفارم کر رہی ہے، کولکتہ میں تین اور ممبئی میں ایک گروپ میچ شیڈول ہے۔

بی سی بی ذرائع کے مطابق اگر آئی سی سی وینیو تبدیل نہیں کرتی تو بورڈ یہ فیصلہ تسلیم نہیں کرے گا اور امید ہے کہ آئی سی سی جلد ہی بنگلا دیش ٹیم کے وینیو سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ریلیز کر دیا تھا اور بنگلا دیش ٹیم کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد بی سی بی نے بھارت نہ جانے کا اعلان کیا تھا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی