بھارت میں میچز نہ کھیلنے کا معاملہ، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے جواب کا منتظر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
سیکیورٹی وجوہات کے باعث بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ نہ کھلینے کے معاملے پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ آئی سی سی کو خط لکھنے کے بعد جواب کا منتظر ہے۔
بی سی بی نے دو روز قبل آئی سی سی کو بھارت میں میچز نہ کھیلنے کی وجوہات کے بارے میں تفصیلی خط لکھا تھا، خط میں تمام شواہد بھی تفصیل کے ساتھ پیش کیے گئے کہ بھارت میں کھیلنا ممکن نہیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ابھی جواب نہیں آیا، آئی سی سی کے ساتھ تمام ثبوت اور ضروری دستاویزات شئیر کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تمام تحفظات کے حوالے سے آئی سی سی کو آگاہ کر دیا ہے، ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہمیں حکومت کی ہدایت کے مطابق چلنا ہے۔
امین الاسلام نے مزید کہا کہ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا کہ اگر ہمارے میچز سری لنکا منتقل نہیں کیے جاتے تو ہم کیا کریں گے، جب آئی سی سی جواب دے گا تو پھر ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس حوالے سے یہ نہیں سنا کہ ہمارے میچز کے لیے حیدرآباد یا چنائی متبادل وینیوز ہیں، میرے خیال میں ہمیں پیر یا منگل تک آئی سی سی کی طرف سے اس حوالے سے جواب آئے گا۔
صدر بی سی بی نے کہا کہ بنگلہ دیش ٹیم ٹی ٹوئنٹی میں اچھا پرفارم کر رہی ہے ان کنڈیشنز میں ٹیم اچھا کھیلے گی، ٹیم کے تین میچز کولکتہ اور ایک گروپ میچ ممبئی میں شیڈول ہے۔
دوسری جانب بی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے وینیو تبدیل نہیں کیا گیا تو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ فیصلہ تسلیم نہیں کرے گا۔
بی سی بی ذرائع کے مطابق بی سی بی کو یقین ہے کہ آئی سی سی بنگلہ دیش ٹیم کا وینیو تبدیل کرے گی۔
یاد رہے کہ بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر بھارتی بورڈ نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ریلیز کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش ٹیم کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد بی سی بی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئے ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا۔
بی سی بی نے آئی سی سی سے میچز بھارت کے علاوہ کسی دوسرے وینیو پر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس پر آئی سی سی نے بی سی بی سے سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات کی تفصیلات مانگی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بھارت میں حوالے سے
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔