حقوق خلق پارٹی کا تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کااعلان،عطاتارڑنے تانگے کی سواریاں قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-08-20
لاہور (نمائندہ جسارت) حقوق خلق پارٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صدر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم اتنے سادہ بھی نہیں کہ جو راز ہے وہ آپ کو بتادیں، آپ سے ایک وعدہ ہے کہ پاکستان کی قیمت پر کبھی سودا نہیں کریں گے۔ لاہور پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ آئین کی بحالی کے لیے سندھ سمیت تمام صوبوں میں جائیں گے، نوازشریف اتنے ہی محب وطن ہیں جتنا کوئی اور شخص ہے‘ چھوٹے لوگوں کے سامنے بڑے بحران ہیں، اس وقت پورے ملک میں دس بھی ایسے آدمی نہیں جو بحران کا حل نکال سکیں‘ 8 فروری کو سب نے گھروں سے باہر نکلنا ہے‘ اجتماعی دانش کے ساتھ ملک کو بحران سے باہر نکالا جا سکتا ہے اس وقت بحران بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے جعلی طریقے سے کچھ لوگوں کو بڑا بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چھوٹے صوبے سینیٹ میں ووٹ نہ ڈالتے تو 26 ویں و 27ویں آئینی ترمیم منظور نہیں ہو سکتی تھی سندھ سمیت تمام صوبوں میں آئین کی بحالی اور آزادی کے حصول کے لیے جائیں گے۔ تحریک کے رہنما راجا ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ کو غیر موثر اور عدلیہ کو 26 ویں ترمیم کے ذریعے بے اثر کردیا گیا ہے اس پر لوگ اپنے حقوق کے لیے خود کھڑے ہو گئے تو حالات بہت خراب ہو جائیں گے جبکہ مصطفی نوازکھوکھر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے صرف آئین پر عمل کرنا ہی واحد راستہ ہوگا۔ اس سے پہلے حقوق خلق پارٹی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل ہونے کااعلان کیا، ان کے سیکرٹری جنرل عمار علی جان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے لیے پنجاب کے عوام کو منظم کریں گے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لوگوں کو تانگے کی سواریاں قرار دے دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا اور مولانا فضل الرحیم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی، انہوں نے مولانا کے صاحبزادوں سے اظہارِ تعزیت بھی کیا۔جامعہ اشرفیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لوگ تانگے کی سواریاں ہیں اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ دوسری جانب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ضرورت پڑی تو اس پر مکمل عملدرآمد کروایا جائے گا جب کہ مذاکرات جن کا کام ہے وہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے کا تجربہ موجود ہے اور اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو مناسب کارروائی کی جائے گی، علما کرام محفوظ ہیں، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے قرآن پاک میں واضح ہدایت موجود ہے اور ایسے اقدامات کرنے والوں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ وزیرِداخلہ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج اور امن و امان کے مسائل کو پہلے بھی مؤثر طریقے سے سنبھالا گیا ہے اور آئندہ بھی اِسی اصول کے تحت نمٹا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ ا ئین پاکستان کہنا تھا کہ نے کہا کہ کا کہنا کے لیے ہے اور
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔