پاکستان سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا اسلحہ اور جنگی طیارے فروخت کریگا، برطانوی خبر ایجنسی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پاکستان سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا اسلحہ اور جنگی طیارے فروخت کریگا، برطانوی خبر ایجنسی WhatsAppFacebookTwitter 0 10 January, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان سوڈان کو ہتھیار اور جنگی طیارے فراہم کرنے کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے ایک معاہدے کے آخری مراحل میں ہے۔ روئٹرز کے مطابق پاک فضائیہ کے ایک سابق اعلی افسر اور تین باخبر ذرائع نے بتایا ہیکہ پاکستان سے اسلحیکی خریداری کا یہ معاہدہ سوڈانی فوج کے لیے بڑی تقویت فراہم کریگا جو نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف برسرپیکار ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان گزشتہ ڈھائی برس سے جاری تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دے چکا ہے، جس میں متعدد غیر ملکی مفادات شامل ہو چکے ہیں، یہ تنازع بحیرہ احمر کے تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم اور سونے اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال اس ملک کے ٹکڑے کرنیکا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہیکہ معاہدے کے تحت پاکستان سوڈانی فوج کو 10 قراقرم-8 لائٹ حملہ آور طیارے، نگرانی اور خودکش حملوں کے لیے 200 سے زائد ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کریگا۔
پاک فضائیہ کے سابق اعلی افسر کے مطابق قراقرم-8 طیاروں کے علاوہ اس سپر مشاق تربیتی طیارے بھی فراہم کیے جائیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان کےJF-17 جنگی طیارے بھی اس معاہدے کا حصہ ہوں، تاہم انہوں نے ان طیاروں کی تعداد یا فراہمی کے شیڈول کی وضاحت نہیں کی۔
روئٹرز کے مطابق پاکستان اور سوڈان کے عسکری حکام نے اس خبر پر تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت کے لیے ایک اور اہم کامیابی ہے، جس میں خاص طور پر اس وقت دلچسپی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا جب گزشتہ سال بھارت کے ساتھ تنازع میں پاکستانی جنگی طیارے استعمال کییگئے۔
گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اسلحے کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا جو پاکستان کی تاریخ کے بڑے دفاعی سودوں میں سے ایک ہے، اور اس میں JF-17 جنگی طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بنگلا دیش کے ساتھ بھی دفاعی معاہدے پر بات چیت ہوئی ہے جس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور JF-17 شامل ہو سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکے پی کے مسائل کا ادراک،منصوبوں کی بروقت تکمیل ترجیح ہے،وزیر اعظم کے پی کے مسائل کا ادراک،منصوبوں کی بروقت تکمیل ترجیح ہے،وزیر اعظم امریکا میں لاکھوں ڈالرز کی لابنگ کے باوجود بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست پاک امریکا 13 ویں انسداد دہشت گردی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز عراق کا جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی کا اظہار ایرانی سیکیورٹی فورسز مظاہرین پر تشدد سے باز رہیں، فرانس، برطانیہ اور جرمنی سابق سینیٹر مشتاق احمد نے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان سوڈان برطانوی خبر جنگی طیارے خبر ایجنسی ارب ڈالر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔