پاکستان اور امریکا کی دوطرفہ 13ویں جنگی مشقوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پاکستان اور امریکا کی افواج کے درمیان 13ویں دوطرفہ مشترکہ مشق (Inspired Gambit–2026) 9 جنوری 2026 کو نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم سینٹر (NCTC) پبی میں شروع ہوئی۔ یہ مشق 2 ہفتوں پر محیط ہے اور کاؤنٹر ٹیرر ازم (CT) کے شعبے میں پیشہ ورانہ تربیت پر مرکوز ہے۔
مزید پڑھیں: ڈنکے کی چوٹ پر آپریشن ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کو سخت جواب
آئی ایس پی آر کے مطابق افتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد ایک دوسرے کے تجربات کا اشتراک، باہمی افہام و تفہیم میں اضافہ اور آپریشنل ٹیکٹکس، تکنیک اور طریقہ کار کی بہتری ہے، خاص طور پر شہری جنگ کے دوران مارکس مین شپ کی مہارتوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
The 13th Pakistan–United States bilateral joint exercise, Inspired Gambit–2026, commenced on 09 January 2026 at the National Counter Terrorism Centre (NCTC), Pabbi.
— Media Talk (@mediatalk922) January 10, 2026
ایسی مشترکہ تربیتیں سیکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے، فوجی معیار کو بہتر بنانے اور دونوں افواج کی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ Inspired Gambit–2026 پاکستان اور امریکا کی امن اور استحکام کے لیے باہمی تعاون کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر پاکستان اور امریکا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر پاکستان اور امریکا پاکستان اور امریکا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔