بھارت: بس کھائی میں گرنے سے 14 مسافر ہلاک‘ 52 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ہماچل پردیش کے سرمور ضلع میں ایک خوفناک سڑک حادثہ رونما ہوا،جس میں ایک پرائیویٹ بس کھائی میں گر گئی۔ حادثے میں 14 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں بعض افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بس شملہ سے کپوی جا رہی تھی۔ ہری پوردھار سے 100 میٹر پہلے اچانک ڈرائیور بس پر کنٹرول کھو بیٹھا اور گاڑی 100 میٹر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے وقت بس میں 66 افراد سوار تھے، جن میں سے 14 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ 52 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بس کھائی میں گرنے سے بہت سے لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور جنگی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں انجام دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھائی میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :