پولیس وردی میں دھرندھر گانے پر ٹک ٹاک وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خاتون پولیس افسر تھانے کے اندر بالی ووڈ فلم دھرندھر کے گانے پر ویڈیو بنارہی تھیں۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مختلف اکاؤنٹس سے شیئر کی گئی، جس میں ایک خاتون پولیس وردی میں تھانے کے اندر موجود نظر آتی ہیں جبکہ پس منظر میں فلم دھرندھر کا گانا ’فاصلہ‘ چل رہا ہوتا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ کیپشنز میں پولیس یونیفارم کے تقدس پر سوال اٹھائے گئے اور بعض صارفین نے اسے پولیس سے جوڑ کر تنقید کا نشانہ بنایا۔

آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے اس وائرل مواد کی جانچ پڑتال کی اور ریورس امیج سرچ کے ذریعے ویڈیو کے اصل ماخذ تک رسائی حاصل کی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کسی بھی پولیس فورس سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ وہ کراچی سے تعلق رکھنے والی فیشن ماڈل اور اداکارہ ہیں، اور یہ ویڈیو ایک شوٹ کا حصہ ہے۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ مذکورہ خاتون نے خود یہ ویڈیو 12 دسمبر 2025 کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی، جس کے کیپشن میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ یہ محض ایک شوٹ ہے اور اصل پولیس اہلکار اس طرح کے لباس یا ہائی ہیلز استعمال نہیں کرتے۔

اداکارہ کی دیگر پوسٹس اور ویڈیوز سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پولیس وردی صرف ایک کردار کے طور پر استعمال کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جس گانے کو ویڈیو میں استعمال کیا گیا، وہ بالی ووڈ فلم دھرندھر کا حصہ ہے، جس پر پاکستان میں مبینہ طور پر پاکستان مخالف بیانیے کے باعث تنقید بھی کی جاچکی ہے۔ اسی تناظر میں اس ویڈیو نے مزید توجہ حاصل کی اور بعض حلقوں نے اسے غلط طور پر پاکستانی پولیس سے جوڑ دیا۔

فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والی خاتون ایک پاکستانی پولیس افسر ہیں، درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک اداکارہ ہیں اور ویڈیو ایک مختصر فلم یا شوٹ کا حصہ ہے، اس لیے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس وردی

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار