پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملتان سلطانز کی بھی نیلامی کا فیصلہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ملتان سلطانز کی فرنچائز کو بھی نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ابتدائی طور پر پی ایس ایل 11 میں ملتان سلطانز کے امور خود سنبھالنے کا اعلان کیا تھا، تاہم تازہ پیش رفت میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ فرنچائز کو فروخت کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب رہی، جس کے باعث پی سی بی نے ملتان سلطانز کی آکشن کا بھی فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق یہ ادارہ سمجھتا ہے کہ ملتان سلطانز کی فروخت کے لیے موجودہ وقت انتہائی موزوں ہے۔
ملتان سلطانز کی اوپن بڈنگ کی جائے گی، جس کے لیے جلد اشتہار جاری کیا جائے گا جبکہ قانونی امور کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق دو فرنچائزز کی ریکارڈ فروخت اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے بعد ملتان سلطانز کو خریدنے کے خواہشمند سامنے آچکے ہیں، جس کے باعث پی سی بی پر امید ہے کہ فرنچائز اچھی قیمت پر فروخت ہوگی۔
واضح رہے کہ حالیہ نیلامی میں پی سی بی نے پی ایس ایل کی دو نئی ٹیمیں فروخت کی ہیں۔ پی ایس ایل 11 میں پہلی بار 8 ٹیمیں شریک ہوں گی جن میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز کی پی ایس ایل پی سی بی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔