پاکستان سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا اسلحہ‘ جنگی طیارے فروخت کریگا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان سوڈان کو ہتھیار اور جنگی طیارے فراہم کرنے کیلیے 1.5 ارب ڈالر کے ایک معاہدے کے آخری مراحل میں ہے۔ روئٹرز کے مطابق پاک فضائیہ کے ایک سابق اعلیٰ افسر اور 3 باخبر ذرائع نے
بتایا ہے کہ پاکستان سے اسلحے کی خریداری کا یہ معاہدہ سوڈانی فوج کیلیے بڑی تقویت فراہم کریگا جو نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف برسرپیکار ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان گزشتہ ڈھائی برس سے جاری تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دے چکا ہے، جس میں متعدد غیر ملکی مفادات شامل ہوچکے ہیں، یہ تنازع بحیرہ احمر کے تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم اور سونے اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال اس ملک کے ٹکڑے کرنے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان سوڈانی فوج کو 10 قراقرم- 8 لائٹ حملہ آور طیارے، نگرانی اور خودکش حملوں کیلیے 200 سے زاید ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کریگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔