سندھ حکومت کراچی کے تمام ٹاؤنز کو 5ارب روپے ترقیاتی بجٹ فراہم کرے،منعم ظفرخان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: میر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد کے ہمراہ گلشن اقبال بلاک 13/A خدیجۃ الکبریٰ پارک میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال کے تحت گل ِ داؤدی فلاور شو کا افتتاح کردیا۔بعدازاں منعم ظفر خان نے گل داؤدی فلاور شو کا دودہ کیا اور خوبصورت پھولوں کی نمائش کے انعقاد پر منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے تمام ٹاؤنز کو کم ازکم 5 ارب روپے ترقیاتی بجٹ فراہم کرے، کراچی میں سندھ حکومت کے تحت جاری تمام منصوبوں کی حتمی تکمیل کی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور ترجیحی بنیادوں پر ان منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے اذیت بن چکا ہے،سندھ حکومت کو 2.
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا گلشن اقبال ٹاؤن کے چیئرمین، ان کی پوری ٹیم اور ڈائریکٹر پارکس کو شاندارگل داؤدی کی نمائش کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ رنگ برنگے پھول کراچی کی پہچان ہیں اور یہ شہر مختلف زبانیں بولنے والوں لوگوں کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے زیر انتظام 9 ٹاؤنز میں مسلسل عوامی، ثقافتی اور تفریحی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ گلشن اقبال ٹاؤن کے پارکس میں اب تک 2 یوتھ سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جو اس وقت کراچی کے کسی اور ٹاؤن میں موجود نہیں ہیں۔ ان یوتھ سینٹرز کے قیام کے ساتھ ساتھ عوام کی باقاعدہ رجسٹریشن بھی کی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اختیارات سے بڑھ کر کام کر رہی ہے اور جن اختیارات سے محروم رکھا جا رہا ہے، ان کے حصول کے لیے بھی جدوجہد جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی گلشن اقبال سندھ حکومت کراچی کے کیا جا
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔