آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 کیلیے تمام 16 ٹیموں نے حتمی اسکواڈز کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
آئی سی سی انڈر 19 مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے لیے تمام 16 ٹیموں نے اپنے حتمی اسکواڈز کا اعلان کر دیا جس کے ساتھ ہی نوجوان کرکٹرز کے اس میگا ایونٹ کے آغاز کی تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ انڈر 19 ورلڈ کپ کا یہ 16 واں ایڈیشن 15 جنوری سے 6 فروری تک نمیبیا اور زمبابوے میں کھیلا جائے گا۔
ایونٹ میں روایتی فارمیٹ برقرار رکھا گیا ہے جس کے تحت 16 ٹیموں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے دوران مجموعی طور پر 41 میچز کھیلے جائیں گے جن میں گروپ مرحلے کے بعد سپر سکس راؤنڈ، سیمی فائنلز اور فائنل شامل ہیں۔
گروپ اے میں ٹورنامنٹ کی سب سے کامیاب ٹیم بھارت شامل ہے جو پانچ بار انڈر 19 ورلڈ کپ جیت چکی ہے۔ اس گروپ میں بھارت کے ساتھ 2020 کے چیمپئن بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ اور امریکا کو رکھا گیا ہے، جس سے اس گروپ کو خاصی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
گروپ بی میں میزبان زمبابوے کے ساتھ پاکستان، انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ گروپ بھی انتہائی دلچسپ مقابلوں کا مرکز ہوگا، جہاں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان بڑے میچ کی توقع کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیںآئرلینڈ کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلیے اسکواڈ کا اعلان
پی ایس ایل: سیالکوٹ کا کپتان کون اور اسکواڈ میں کون شامل ہوگا؟ ٹیم اونر نے بتادیا
دفاعی چیمپئن آسٹریلیا گروپ سی میں شامل ہے، جہاں اسے سری لنکا، آئرلینڈ اور جاپان کا سامنا ہوگا۔ آسٹریلوی ٹیم ایک بار پھر ٹائٹل کے دفاع کے لیے مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی ہے۔
گروپ ڈی میں جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، افغانستان اور تنزانیہ شامل ہیں، جس سے یہ گروپ بھی متوازن اور مسابقتی نظر آتا ہے۔ ہر گروپ میں شامل ٹیم نے اپنے اپنے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان انڈر 19 ٹیم کی قیادت فرحان یوسف کریں گے، جبکہ اسکواڈ میں عثمان خان، عبدالصبحان، احمد حسین، علی حسن بلوچ، علی رضا، دانیال علی خان، حمزہ زہور، حذیفہ احسن، مومن قمر، محمد سیام، محمد شیان، نقاب شفیق، سمیر منہاس اور عمر زیب شامل ہیں۔ ریزرو کھلاڑیوں میں عبدالقادر، فرحان اللہ، حسن خان، ابتسام اظہر اور محمد حذیفہ شامل ہیں۔
آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ 2026 نوجوان کرکٹرز کے لیے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بڑا موقع ہوگا، جہاں مستقبل کے اسٹارز سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ شائقین کرکٹ کو اس ایونٹ میں سنسنی خیز اور اعلیٰ معیار کے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انڈر 19 ورلڈ کپ کا اعلان شامل ہیں
پڑھیں:
اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔
مشیل باشیلے (چلی)74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔
باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت ہونی چاہیے۔
انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔
ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔
رافیل گروسی (ارجنٹائن)65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔
گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔
وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔
انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔
2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔
گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔
میکی سال (سینیگال)64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔
ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انتخاب کا طریقۂ کاراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں