Juraat:
2026-06-03@02:33:12 GMT

انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

چوپال /عظمیٰ نقوی

عدالت کے کمرہ نمبر تین میں اُس دن خاموشی بول رہی تھی۔ لکڑی کی سخت بینچ پر بیٹھی ایک بوڑھی ماں کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ کبھی وہ اپنے دوپٹے کے کونے سے آنسو پونچھتی، کبھی اسے مضبوطی سے تھام لیتی، جیسے یہ کپڑا نہیں بلکہ اس کی آخری اُمید ہو۔ اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف برسوں کی جاگ، مسلسل فکر اور نہ ختم ہونے والا انتظار تھا۔ ہر لمحہ اس کی نگاہ سامنے کھڑے اپنے بیٹے پر جا ٹھہرتی، جیسے وہ اسے دیکھ کر خود کو یقین دلاتی ہو کہ وہ ابھی زندہ ہے۔
آہنی سلاخوں کے پیچھے کھڑا وہ بیٹا، جس کی عمر ابھی تیس برس بھی نہ تھی، چہرے سے بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ نظریں زمین میں گاڑی ہوئی تھیں، جیسے وہ عدالت سے نہیں بلکہ اپنے مقدر سے نظریں چرا رہا ہو۔ اس کے جھکے ہوئے سر میں خوف بھی تھا اور بے بسی بھی، اور شاید یہ خاموش سوال بھی کہ کیا آج کوئی فیصلہ ہوگا یا پھر ایک اور تاریخ ملے گی۔
جج نے فائل کھولی۔ کاغذ پلٹنے کی آواز کمرہ عدالت میں گونجی تو ماں کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ہر صفحہ الٹنے کے ساتھ اس کی امید بڑھتی گئی۔ پھر جج نے نگاہ اٹھائی اور مختصر مگر بھاری لہجے میں کہا:چالان نامکمل ہے، گواہوں کے بیانات متضاد ہیں، فرانزک رپورٹ شامل نہیں۔ کیس ملتوی کیا جاتا ہے۔
یہ الفاظ عدالت کے لیے معمول کی بات تھے، مگر اس ماں کے لیے ایک اور سال کا انتظار بن گئے۔ ایک اور سال آنسوؤں کا، ایک اور سال دعاؤں کا، اور ایک اور سال ہر پیشی پر یہی سوچ کہ شاید اگلی تاریخ پر انصاف مل جائے۔مگر انصاف ایک بار پھر تاریخ کی فائل میں دب گیا۔
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام کی تصویر ہے۔ 9مئی کے مبینہ واقعہ کو جواز بناکر ہزاروں ورکرز کو پابند سلاسل کردیا گیا ، مائیں ،بہنیں ۔بیٹیاں ،بیویاں ہر پیشی پر رہائی کی امید لے کر گھر کی دہلیز پار کرتی ہیں لیکن ہر بار عدالت کے ریمارکس اس امید پر پانی پھیر دیتے ہیں ،ہم کس دور میں سانس لے رہے ہیں ،سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ،صنف آہن ڈاکٹر یاسمین راشد ،صنم جاوید ،جیسے ہزاروں ورکروں کو جرم ِ بے گناہی کی سزا دی جارہی ہے ۔
ناقص چالان مقدمے کو کمزور کر دیتا ہے لیکن ٹرائل کو لمبا کر دیتا ہے اور انصاف کو دیر کا شکار بنا دیتا ہے۔ اگر ملزم بے گناہ ہو تو وہ برسوں جیل میں رہتا ہے، اور اگر مجرم ہو تو شواہد کی کمی اسے بچا لیتی ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان معاشرے کا ہوتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ صرف افراد نہیں بلکہ نظام ہے۔ ایک تفتیشی افسر پر درجنوں مقدمات کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ تربیت کی کمی، نگرانی کی کمزوری اور جوابدہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یوں چالان ایک سنجیدہ قانونی ذمہ داری کے بجائے محض فائل مکمل کرنے کا مرحلہ بن جاتا ہے۔ انصاف ہمیشہ پولیس چالان کی سنجیدگی سے جنم لیتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں تفتیشی افسران کی بہتر تربیت، پراسیکیوشن کے ساتھ مؤثر رابطہ اور ناقص چالان پر احتساب کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے،کیونکہ جب تک چالان مضبوط نہیں ہوتا ٹرائل بھی کمزور رہے گا۔9مئی کی جھوٹی ایف آئی آرز میں ایک ایک ورکرز کی کئی کئی شہروں میں موجودگی دکھا کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ،جہاں عدلیہ کا وجود نہ ہو وہاں انصاف کا تصور دم توڑ دیتا ہے ، ملک بھر کی عدالتوں میں ایسے مناظر روز دیکھے جا سکتے ہیں۔ مائیں ہر پیشی پر امید لے کر آتی ہیں اور واپس صرف ایک نئی تاریخ لے کر جاتی ہیں۔
فیصلوں کے انتظار میں گزشتہ چار برس سے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور ان کے لواحقین دھکے کھارہے ہیں ،پولیس آج بھی ورکروں پر زمین تنگ کئے ہوئے ہے ،میرے سامنے ہنجر وال کے راشد یوسف کی لاش ہے جسے گزشتہ رات فسطائی پولیس نے اپنی دہشت کی نذر کر دیا ہم ایک ایسی دھرتی پر سانسوں کے گنہگار ہیں جہاں قانون جھوٹی ایف آئی آر کی بیساکھیوں پر زندہ ہے اور انصاف راندۂ درگاہ ہوچکا ہے ؟
پاکستان کے نظامِ انصاف میں پولیس چالان ایک بنیادی قانونی دستاویز ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس یہی رپورٹ عدالت میں پیش کرتی ہے اور اسی پر مقدمے کی سمت طے ہوتی ہے۔ گواہوں کے بیانات، شواہد، میڈیکل اور فرانزک رپورٹس سب اسی چالان کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر چالان مضبوط اور مکمل ہو تو انصاف کی راہ ہموار ہوتی ہے، لیکن اگر یہ کمزور ہو تو پورا مقدمہ ابتدا ہی میں لڑکھڑا جاتا ہے۔
قانون کے مطابق چالان بروقت، مکمل اور غیر جانبدار ہونا چاہیے، مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہورہا ۔ اوپر کسی آرڈر پر چالان عجلت میں اور رسمی انداز میں تیار کیے جارہے ہیں۔ جس کا نقصان صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانوں کی زندگیاں اس کی قیمت چکاتی ہیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایک اور سال نہیں بلکہ جاتا ہے دیتا ہے

پڑھیں:

 یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی

اسامہ ملک : یکم جون سے لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز کا معاملہ،پہلے دن کتنے شہری کیمرے کی نظر میں آئے؟ کتنے چالان ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی۔

 کراچی شہر میں لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان سسٹم کے آغاز کے پہلے ہی دن مجموعی طور پر 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

 رپورٹس کے مطابق تمام چالان میٹروپول سے ایئرپورٹ جانے اور آنے والی مرکزی سڑک پر کیمروں کی مدد سے کیے گئے، پہلے دن مجموعی طور پر 11 مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں کو خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 اعداد و شمار کے مطابق بڑی بسوں کے 2، کوسٹر کے 2، ڈبل کیبن کا 1 اور عام گاڑیوں کے 9 چالان کیے گئے، اسی طرح منی بس کے 6، منی ٹرک کے 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان بھی جاری ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ موٹرسائیکل کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن کے 43 چالان کیے گئےجبکہ ٹرک کے 3، وین کے 4 اور واٹر ٹینکر کے 2 چالان بھی شامل ہیں۔

 تمام چالان اس بنیاد پر کیے گئے کہ گاڑیاں اپنی مقررہ لین چھوڑ کر دوسری لین میں چل رہی تھیں، مزید یہ بھی سامنے آیا کہ فرسٹ لین میں کم رفتار سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کا سامنا کرنا پڑا۔
 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا