کراچی روانگی کے دوران رکاوٹوں کا سامنا، جلسہ ہر صورت ہوگا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ حیدرآباد سے کراچی واپسی کے دوران ان کے قافلے کو جان بوجھ کر شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث معمول کا سفر ساڑھے سات گھنٹوں میں طے کرنا پڑا۔
کراچی پہنچنے کے بعد جاری ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سے روانگی کے بعد ان کا راستہ مختلف مقامات پر روکا گیا اور انہیں دانستہ طور پر ویران اور غیر معمولی راستوں کی طرف موڑا گیا،یہ تمام اقدامات انہیں کراچی پہنچنے سے روکنے کے لیے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود وہ بحفاظت کراچی پہنچ چکے ہیں اور اعلان کیا کہ پارٹی کا جلسہ ہر صورت ہوگا۔
دوسری جانب یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کراچی کے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو باغِ جناح میں جلسے کی اجازت دے دی گئی ہے، اس کے باوجود پی ٹی آئی نے مزارِ قائد کے گیٹ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صورتحال پر انتظامیہ اور سیاسی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔