میانمار فوج کی فائرنگ بنگلہ دیشی طالبہ جاں بحق، ٹیکناف میں مظاہرے پھوٹ پڑے
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے ٹیکناف میں میانمار کی جانب سے آنے والی گولی لگنے سے ایک 10 سالہ اسکول کی طالبہ جاں بحق ہو گئی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو عارضی طور پر بند کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نیوی کی کارروائی، میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 11 افراد گرفتار
کاکس بازار کے علاقے ٹیکناف میں اتوار کے روز میانمار کی سرحد پار سے آنے والی فائرنگ کے نتیجے میں چوتھی جماعت کی طالبہ افنان جاں بحق ہو گئی۔ مقامی حکام کے مطابق واقعہ صبح تقریباً 10 بجے ہوا، جب افنان ہواکینگ علاقے میں لامبابیل ٹیکچھّی پل کے قریب موجود تھی، جو میانمار کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
Local residents of the Teknaf border area have issued a 3-day ultimatum demanding the removal of Rohingya groups,citing constant security threats.
— Defence research forum DRF (@Defres360) January 11, 2026
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) بٹالین 64 کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد زاہد الاسلام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلک گولی میانمار کی جانب سے فائر کی گئی تھی۔
واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے کاکس بازار، ٹیکناف شاہراہ کو تقریباً 3 گھنٹے کے لیے بند کر دیا، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ احتجاج کے دوران بعض گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج، پولیس، نیوی، بی جی بی اور آرمڈ پولیس بٹالین کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔
مقامی سیاسی رہنماؤں اور انتظامیہ کی مداخلت کے بعد دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب سڑک دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ میانمار کے رخائن ریاست میں جاری جھڑپوں کے تناظر میں پیش آیا، جہاں اراکان آرمی اور روہنگیا مسلح گروہ کے درمیان حالیہ دنوں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی شدید فائرنگ کے باعث بنگلہ دیشی سرحدی علاقوں میں کئی دنوں سے خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: میانمار اسمگل کی جانے والی سیمنٹ کی ڈیڑھ ہزار بوریاں ضبط، 22 افراد گرفتار
پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیکناف میں صورتحال فی الحال قابو میں ہے، تاہم سرحدی آبادی میں تشویش برقرار ہے۔ سیاسی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور میانمار کی داخلی کشیدگی کے اثرات کو بنگلہ دیش تک پھیلنے سے روکا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیشی لڑکی میانمار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیشی لڑکی میانمار ٹیکناف میں میانمار کی بنگلہ دیش کے لیے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان