خطرہ ہے دو چار ماہ بعد پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کردیں گے، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
لاہور:
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ مجھے خطرہ ہے دو چار مہینے بعد پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کردیں گے۔ میں پانچ بڑوں کو نہیں مانتا چار کو بڑا مانتا ہوں اور چار بڑوں کی وجہ سے پانچواں بڑا آیا۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت کے ماحول میں بھی لاہور کے لوگوں نے ہمارا بہت اچھا استقبال کیا، ہم لاہور فتح کرنے نہیں بلکہ آٹھ فروری کے حوالے سے تحریک چلانے کیلئے آئے تھے۔ یہاں سب اپنی اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں، گاڑیاں ٹوٹی تو پولیس اپنی ڈیوٹی کررہی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب سے آئین بنا جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں نے اسے توڑا، بعض لوگوں کو یہ آزادی حاصل ہے جب چاہیں آئین کو پھاڑ دیں جب چاہیں سیاستدانوں کو پھانسی دے دیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان ایک آخری ایس و ایس پیغام ہے، جب جہاز ڈوب رہا ہوتا ہے تو ایس او ایس کال دی جاتی ہے ایسے ہی پاکستان ڈوب رہا ہے، آٹھ فروری کو سب اپنے اپنے حساب سے احتجاج کریں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن فرسٹریٹ ہیں وہ اپنے راہبروں کو بھی گالیاں دے رہے ہیں، ہم نے ان کو منع کیا ہے گالیاں نہ دیں حالانکہ ہم تحریک انصاف کے نہیں ہیں، ہم نے ان کو سمجھایا آپ تحریک چلائیں، پاکستان ہمارا گھر ہے، لوگ روزگار کمانے باہر جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں روزگار نہیں ہے، جو آدمی ایمان بیچتا ہے اس کو یہاں محب وطن کہا جاتا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نو مئی کے روز کور کمانڈر ہاوس کھلا ہوا کیوں تھا، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے جوڈیشل کمیشن بنائیں کیوں نہیں بناتے، آٹھ فروری کا ایجنڈا صرف عمران خان کی رہائی نہیں ہے، اس وقت پورے ملک میں فسطائیت ہے، پلان یہ ہے جہاں ہم کرسکتے ہیں وہاں جلوس نکالیں گے اور ہڑتال کریں گے
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کبھی نہیں ہوا دنیا کی تاریخ میں کہ ایک چیف جسٹس سیاسی جماعت کا نشان چھین لے، بندوق کے زور پر طاقت کے زور پر دہشت گردی کی گئی، جو شخص بکرے کی طرح بکتا ہے وہ محب وطن پاکستانی ہے، جو شخص آئین کے ساتھ یا اپنا حق لینا چاہتا ہے وہ دہشت گرد بن جاتا ہے، خواتین کو سڑک پر گھسیٹنا تھانے لیکر جانا کہیں بھی نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جتنے بھی بحرانوں میں ہے وہ سب اندرونی ہیں، نا انصافیاں گھروں کو توڑتی ہیں اگر ملک بے انصافی سے چلے گا تو ملک کا کیا ہوگا۔ یہ خطہ بہت خطرناک جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم نے آج تک پارلیمنٹ میں بحث بھی نہیں کی کہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے، ووٹ کو عزت اور روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے ایسی ترمیم کرتے ہیں جس سے ملک تباہ ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔