گرفتار ملازمین کو فوری رہا کیا جائے، ٹیچرز ایسوسی ایشن کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں ٹیچرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور گرینڈ الائنس کے قائدین کو مذاکرات کیلیے طلب کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کوئٹہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت بلوچستان صوبے کے اڑھائی لاکھ سے زائد ملازمین کو دیوار سے لگانے پر تلی ہوئی ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے اساتذہ کرام اور دیگر سرکاری ملازمین کو گرفتار کرکے جیلوں میں قید کیا گیا ہے، جو کہ ایک انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ گرینڈ الائنس کے مرکزی قائدین کے گھروں پر کوئٹہ میں روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جس سے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں پروفیسرز کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ان تمام غیر انسانی، غیر قانونی اور ملازمین دشمن اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ بیان میں حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام گرفتار ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور گرینڈ الائنس کے قائدین کو مذاکرات کے لیے طلب کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس سمیت دیگر جائز مطالبات کے نوٹیفکیشنز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ مطالبات کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹیچرز ایسوسی ایشن ملازمین کو کیا جائے گیا ہے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔