کسی بھی خارجی قوت کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے، ایرانی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 11 January, 2026 سب نیوز

تہران (آئی پی ایس )ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بعض افراد کے سر قلم کیے، ہم مشکلات کو حل کرنے اور عوام کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ہم کسی بھی خارجی قوت کو ملک میں نفاق پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایسے عناصر کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق، اگر کوئی اس ملک سے تعلق رکھتا ہے تو وہ پرامن احتجاج کرے، ہم اس کی بات سنیں گے اور مسائل حل کریں گے، لیکن بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور آگ لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر محلے میں جمع ہو کر ہنگامہ آرائی کو روکیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ درست یا غلط تجزیوں کی بنیاد پر گمراہ نہ ہوں اور دہشت گردوں و فسادیوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ پسِ پردہ ان عناصر کو اکسا رہے ہیں۔ ان کے بقول، وہی قوتیں جنہوں نے اس ملک میں ہمارے نوجوانوں اور بچوں کو قتل کیا، آج ان لوگوں کو تباہی پھیلانے کے احکامات دے رہی ہیں، یہ کہہ کر کہ ہم پیچھے کھڑے ہیں، تم آگے بڑھو۔انہوں نے خاندانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو فسادی اور دہشت گرد عناصر سے دور رکھیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکومت جائز احتجاج سننے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تیار ہے۔ایرانی صدر نے کہا، آئیں ہم سب مل بیٹھیں، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بات کریں اور عوامی خدشات کو حل کریں۔ پرامن احتجاج سب کا حق ہے، لیکن تشدد اور تباہی ناقابلِ برداشت ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا دسمبر 2025میں ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں سے اظہار تشکر وزیراعظم کا دسمبر 2025میں ریکارڈ ترسیلات زر بھیجنے پر سمندر پار پاکستانیوں سے اظہار تشکر اسلام کی بقا آسائشوں میں نہیں، آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، مولانا فضل الرحمان پاک نیوی کے بیڑے کا سلطان قابوس بندرگاہ کا دورہ، مشترکہ مشق میں حصہ لیا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی آذربائیجان کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات ، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا اعادہ بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کاسافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک بے نقاب خدشہ ہے چند ماہ میں پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کردینگے، محمود اچکزئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ملک میں

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم