ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا عوامی بغاوت کا اعلان، تہران واپسی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ایران کے سابق جلا وطن ولی عہد اور اسلامی جمہوریہ کے نمایاں مخالف رضا پہلوی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران واپس آنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ’قومی انقلاب کی فتح‘ کے موقع پر ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔
رضا پہلوی نے مظاہرین کے نام ویڈیو پیغام میں گزشتہ 2 راتوں کے دوران ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو سراہا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ شہروں کے مرکزی علاقوں پر قبضہ کرنے اور انہیں اپنے کنٹرول میں رکھنے کی تیاری کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر صرف سڑکوں پر نکلنا کافی نہیں بلکہ مختلف راستوں سے منظم انداز میں شہر کے مرکزی علاقوں کی جانب پیش قدمی ضروری ہے۔ ایرانی مظاہرین کی جرات اور استقامت نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی اپیل پر جمعرات اور جمعہ کی رات ایران کے مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں افراد سڑکوں پر نکلے اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے بازی کی۔
انہوں نے جمعہ کی شب ہونے والے مظاہروں کو ایران کے سپریم لیڈر کی دھمکیوں کا ’دندان شکن جواب‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ مظاہروں کے مناظر دیکھ کر قیادت ہل کر رہ گئی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے رضا پہلوی کے بیانات پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔