جس دن قوم نے محکومیت قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس دن یہ جبر ختم ہوجائے گا، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے معاشی ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر رہنماؤں نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت معاشی استحکام کے دعوے کررہی ہے وہیں خود حکومتی رپورٹس میں عوام کا معیار زندگی تیزی سے گرنے اور غربت میں اضافے کے اعدادوشمار حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایس آئی ایف سی نمایاں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہا، پی آئی اے کی نج کاری کی حمایت کرتے ہیں تاہم ورکرز کے استحصال کے خلاف ہیں۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں محمد زبیر نے کہا کہ سرکاری سروے کے مطابق 80 فیصد عوام کا طرزِ زندگی خراب ہوا ہے جبکہ اتنے ہی فیصد لوگوں نے مہنگائی کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری میں کمی کی ہے۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر شہری مڈل کلاس ہوئی ہے اور 23 فیصد شہری آبادی کی آمدن اور معیارِ زندگی نیچے چلا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں چار سال میں عوام کی زندگی نیچے چلی گئی ہو وہاں یہ پوچھنا لازم ہے کہ حکومت نے آخر حاصل کیا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو کنٹرول میں لے کر بھی معیشت بہتر نہیں کی جا سکی۔ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لانے کے لیے بنایا گیا تھا مگر سرمایہ کاری 50 فیصد کم ہو گئی، جو اس ادارے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال میں تین کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
محمد زبیر نے کہا کہ امریکا اور مڈل ایسٹ سے سرمایہ کاری اس لیے نہیں آ رہی کیونکہ ملک میں قانون کی بالادستی موجود نہیں۔ اب پاکستانی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے قبل بین الاقوامی عدالتوں میں مصالحت کا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی بدحالی کا سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چھ ماہ میں معیشت بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو پورا نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد تھے، جبکہ جنوری 2022 میں یہی ذخائر 2023 میں کم ہو کر 2.
محمد زبیر نے کہا کہ نیب کی جانب سے 5300 ارب روپے کی ریکوری کے دعوؤں کی وضاحت کی جائے کہ یہ رقم کس سے وصول کی گئی اور کن افراد کو سزا دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گندم اسکینڈل 300 ارب روپے کا تھا جس پر آڈیٹر جنرل نے رپورٹ دی، چینی اسکینڈل میں بھی 300 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ وزیر پیٹرولیم خود اعتراف کر چکے ہیں کہ 300 ارب روپے کی پیٹرولیم مصنوعات اسمگل ہو رہی ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جلسے کے لیے این او سی جاری ہونے کے باوجود پولیس نے گھیراؤ کیا، گرفتاریاں کی گئیں اور اسٹیج و ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والوں کو ہراساں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود جلسہ ضرور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کو اصولی طور پر سپورٹ کرتے ہیں لیکن اس عمل میں شفافیت اور ورکرز کے حقوق پر سنگین سوالات موجود ہیں اور نجکاری کے نام پر کسی بھی قسم کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو تباہ کرنے والوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت اور پارلیمان محض ڈھکوسلہ بن چکے ہیں اور ملک عملی طور پر ایک جیل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 15 ہر شہری کو آمدورفت کی آزادی دیتا ہے مگر آج یہ حق سلب کیا جا رہا ہے۔ عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد ناگزیر ہے اور جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری سلمان اکرم ارب روپے کرنے کا
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم