کراچی: ایک اور نادرا میگا سینٹر کے قیام کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کراچی میں ایک اور نادرا میگا سینٹر کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہےـ
تفصیلات کے مطابق نادرا ریجنل ہیڈ آفس کراچی اور ٹی ایم سی کورنگی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر 13 جنوری کو دستخط کئے جائیں گے۔میگا سینٹر کورنگی، 30 ون ونڈو کاؤنٹرز پر مشتمل ہوگا۔ روزانہ 2,500 سے 3,000 درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کرنے کی گنجائش ہو گی۔
علاوہ ازیں جانشینی سرٹیفکیٹ کاؤنٹر، پاک آئی ڈی کاؤنٹر، سیلف سروس کاؤنٹر، تھیلیسیمیا ٹیسٹ کاؤنٹر، اسلحہ لائسنس کاؤنٹر اور بزرگ شہریوں کے لئے علیحدہ کاؤنٹر بنائے جائیں گے۔ میگا سینٹر میں ایک زونل آفس بھی قائم کیا جائے گا۔کورنگی، لانڈھی، کورنگی کریک، شاہ فیصل کالونی، ملیر ماڈل کالونی، چکرا گوٹھ، بن قاسم، اسٹیل ٹاؤن، ابراہیم حیدری، قیوم آباد اور گرد و نواح کے دیگر علاقوں کے تقریباً 40 لاکھ شہریوں کو ایک چھت تلے نادرا کی تمام خدمات تک آسان رسائی میسر ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میگا سینٹر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔