پی ٹی آئی کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، گائیڈ لائنز پر عمل کریں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ سیکیورٹی پلان پر عمل نہیں کیا جا رہا، جلسے کے حوالے سے سندھ پولیس کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو دور سندھ پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا اور انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی، وزیراعلیٰ کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور آئینی عہدوں کا مکمل احترام کیا گیا ہے۔ ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا پی ٹی آئی کی انتظامیہ حکومتِ سندھ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیم جو یقین دہانیاں پی ٹی آئی کی جانب سے کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا، پہلے ہی دن واضح طور پر کہا گیا تھا کہ آپ کو جلسہ کرنے کی اجازت ہے، اس کے باوجود حکومتِ سندھ پر الزامات عائد کرنا نامناسب ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے کسی نے نہیں روکا، تاہم سڑکوں پر جس انداز سے ریلیاں اور جلوس نکالے جا رہے ہیں، اس سے ٹریفک میں شدید خلل پیدا ہو رہا ہے اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میٹرو پولیٹن شہر ہے، یہاں چند سو افراد کی جمع ہونے سے ہی ٹریفک کے مسائل جنم لیتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا دورہ مکمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور حکومت کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائنز پر عمل کریں، عام لوگوں کی نقل و حرکت متاثر نہ کی جائے اور قانون شکنی سے گریز کیا جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ جلسے کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا، سیکیورٹی الرٹ کے پیش نظر سیکیورٹی پلان دیا گیا تھا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سیکیورٹی پلان پر عمل نہیں کیا جا رہا، جلسے کے حوالے سے سندھ پولیس کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومتِ سندھ کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور صرف وہی راستے استعمال کیے جائیں، جو حکومت کی جانب سے مختص کیے گئے ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیدرآباد میں پی ٹی ائی کو جو روٹ دیا گیا تھا اس پر عمل نہیں کیا گیا اور انہوں نے اپنی مرضی آپ کے تحت روٹ اختیار کیا، یہ کہنا درست نہیں کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے قافلے کو حیدرآباد سے واپسی پر روکا گیا، سندھ حکومت کی کوئی بدنیتی شامل نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر عمل نہیں کیا میمن نے کہا کی جانب سے پی ٹی آئی نے کہا کہ کے ساتھ گیا تھا کیا جا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔