حکومت باہمی مفاد، تجارتی شراکتداریوں کے فروغ کیلئے پُرعزم، جام کمال
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی اور عالمی منڈیوں کے لیے بے مثال مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بات آٹھویں پاکستان ایڈیبل آئل کانفرنس (PEOC-26) میں خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں خوردنی تیل اور تیل دار بیجوں کے شعبے کے اہم کردار کو سراہا گیا۔
جام کمال خان نے پاکستان ایڈیبل آئل ریفائنرز ایسوسی ایشن اور سیڈ ایسوسی ایشن کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے ملکی معیشت اور برآمدات میں نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے صدرِ انڈونیشیا کے حالیہ دورۂ پاکستان کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان پام آئل اور دیگر اجناس کی دوطرفہ تجارت بڑھانے پر زور دیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ ریئر ارتھ منرلز میں تجارتی تعاون میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات طویل المدتی، دوستانہ اور باہمی مفاد پر مبنی ہیں، جبکہ انڈونیشیا، ملائیشیا، امریکہ اور کینیڈا بھی پاکستان کے ساتھ تجارت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
جام کمال خان نے کہا کہ تجارت اب روایتی دائرے سے نکل کر اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر رہی ہے، اور خوردنی تیل و تیل دار بیج معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوان افرادی قوت، کم لاگت لیبر اور تیزی سے بڑھتی ٹیکنالوجی کی بدولت سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک ہے۔
وزیر تجارت نے معاشی اصلاحات، کاروباری آسانیوں اور برآمدات پر مبنی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت باہمی مفاد پر مبنی تجارتی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور ملکی معیشت کو عالمی منڈیوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جام کمال کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔