9 مئی واقعات، غیرمصدقہ ویڈیوز کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی رہنما کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
پشاور:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے پشاور میں 9 مئی واقعات کی فرانزک رپورٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈھائی سال بعد غیر مصدقہ ویڈیوز کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے پنجاب فرانزک لیبارٹری کی 9 مئی واقعات سے متعلق رپورٹ پر ردعمل میں کہا کہ 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملہ ٹرائل کے بعد خارج ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا نام ایف آئی آر نمبر221 میں ہے نہ ہی کسی ضمنی چالان میں، مرکزی کیس میں ہمیں بری کیا گیا اور استغاثہ کا مؤقف عدالت میں ریزہ ریزہ ہوا۔
تیمورسلیم جھگڑا نے کہا کہ ڈھائی سال بعد غیر مصدقہ ویڈیوز کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، وائرل اسکرین شارٹس کا ریڈیو پاکستان واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ایک ویڈیو پشاور کی ہے ہی نہیں۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ مہم وزیراعلیٰ اور ان افراد کے خلاف ہے، جنہیں کبھی مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے پشاور میں 9 مئی واقعات کی ویڈیوز کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مئی واقعات ویڈیوز کی پی ٹی آئی کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔