راولپنڈی:(نیوزڈیسک) کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ مودی! کشمیر آتش فشاں پہاڑ جو بہت جلد پھٹنے والا ہے۔

جڑواں شہر راولپنڈی کے علاقے پرانا قلعہ اور بازار کلاں کے دورے کے موقع پر شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ یہاں آنا میرے لیے عزت کی بات ہے ، بھائی، بزرگ، بچے آئے ہیں غازی یاسین ملک کے لیے، اُن کا شکریہ !۔

اُنہوں نے کہا کہ غازی تنہا مودی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، عوام میں آئی ہوں، عام لوگ ہیں، تحریک عام لوگ چلاتے ہیں، کشمیر کے لیے آپ سب سٹریٹ فائٹرز ہیں آج راولپنڈی میں نکلے، ایک زمانے میں یاسین ملک ٹینچ بھاٹہ میں رہتے تھے ،انھیں راولپنڈی سے عشق ہے ۔

اہلیہ کشمیری حریت رہنما کا کہنا تھا کہ اُمید ہے جو تحریک راولپنڈی سے چلے گی نتیجہ دے گی، ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں،مودی کو پیغام ہے یاسین ملک حق کی جنگ لڑ رہا ہے، زندہ رہا تو غازی اور مار دیا گیا گیا تو شہید کہلائے گا، اِس پر فخر ہوگا۔

مشعال ملک نے کہا کہ مودی! کشمیر آتش فشاں پہاڑ ہے، یاد رکھو تم ڈرپوک ہو بے غیرت ہو، بہت جلد آتش فشاں پھٹنے والا ہے ، جلد بڑا پیغام آنے والا ہے تمہاری فلموں کا، تم نے معرکہ حق میں ابھی ٹریلر ہی دیکھا ہے ،بہت جلد مقبوضہ کشمیر میں معرکہ حق کی مکمل فلم آنے والی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں موت کا کوئی ڈر نہیں ، جو کشمیر کے لیے یاسین ملک کے ہمارے لیے نکلا ہے اُس نے بتایا کہ حق کے ساتھ ہے، 28 جنوری کو پھانسی کیس کی سماعت ہے ،ہم پورے پاکستان میں عوامی رابطہ مہم چلانے جا رہے ہیں، میں عوام میں ڈائرکٹ آئی ہوں کیوں کہ مجھے مودی دہشت گرد کا خود نہیں۔

اہلیہ کشمیری حریت رہنما نے کہا کہ کشمیری قوم اور پاکستانی قوم نے ڈر کے بت توڑ ڈالے، اب ہندوتوا کے بت توڑنے نکلے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں خواتین سے بدسلوکی بچیوں سے زیادتیاں کسی صورت قبول نہیں اُن کو تحفظ دینے کے لیے آپ نے نکلنا ہے، اُںہوں نے جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے مودی ہے کے نعرے لگوا دیے۔

مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں 87 آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن کی تعداد 100 تک پہنچے گی، بھارت کو پیغام ہے جس تیزی سے مودی کی پالیسیاں چل رہی ہیں، انشاء اللہ ہندوستان کے سینے سے دس، دس پاکستانی کشمیر اور بنگلا دیش نکلیں گے، ہندوستان کی دہشتگردی سے خطہ متاثر ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کشمیری جس طرح نکلے اِسی طرح نکلیں، کشمیر پاکستان کی سیسہ پلائی دیوار ہے جو شہداء کے خون سے رچی ہوئی ہے، آپ کی بہن نکلی ہوئی ہے، میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، آپ یاسین ملک کے لیے کشمیر کے جہاد کےاندر رول ادا کریں گے۔

اہلیہ کشمیری حریت رہنما کا مزید کہنا تھا کہ راولپنڈی آرمی کا ہیڈکوارٹر ہے ہندوستان کو راولپنڈی کے ذکراور پاکستان آرمی کے نام سے موت پڑ جاتی ہے ،آپ یہاں سے یاسین ملک کی رہائی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے انقلاب لائیں، کشمیر کی تحریک آزادی زندہ باد، پاکستان زندہ باد!۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کشمیری حریت رہنما کا کہنا تھا کہ نے والا ہے یاسین ملک مشعال ملک نے کہا کہ بہت جلد کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار