بھارتی فوج کی بوکھلاہٹ، ایل او سی پر پکڑے کبوتر کو ’جاسوس‘ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر کے اکھنور سیکٹر کے قریب ایک مقامی نوجوان نے ایک کبوتر پکڑا، جس پر بھارت نے جاسوسی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق کبوتر کے پروں پر مہریں لگی ہوئی تھیں جبکہ دونوں پیروں میں لال اور پیلی رنگ کی انگوٹھیاں تھیں جن پر ’رحمت سرکار‘، ’رضوان 2025‘ اور کچھ نمبرز درج تھے۔
مقامی لوگوں نے کبوتر کو فوراً پولیس کے حوالے کیا، اور اسے بعد ازاں مزید تحقیقات کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے سپرد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بھارتی فوج ماضی میں بھی اسی قسم کے شبہات میں غبارے اور پرندے پکڑ چکی ہے، جو ان کی بوکھلاہٹ کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی فوج بوکھلاہٹ جاسوسی کا الزام کبوتر پکڑ لیا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج بوکھلاہٹ جاسوسی کا الزام وی نیوز
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔