data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: عالمی منڈی میں پیٹرول کی فی بیرل قیمت میں 2 ڈالر 74 سینٹ کمی ہوگئی، پیٹرول کی فی بیرل قیمت 69.27 ڈالر سے کم ہوکر66.54 ڈالرفی بیرل ہوگئی۔

میڈیارپورٹ کے مطابق پیٹرول پریمیم پر فی بیرل 13سینٹ کمی ریکارڈ کی گئی، پریمیم 5 ڈالر 14سینٹ سے کم ہوکر5 ڈالر1 سینٹ ہوگیا۔ پیٹرول پر فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی میں بھی 72پیسے کمی ہوگئی، پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 6 روپے51 پیسے فی لیٹرکمی ریکارڈ کی گئی۔

پیٹرول پر فی لیٹر ایکس چینج ایڈجسٹمنٹ میں 68 پیسے کمی ہوگئی، پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 145روپے57 پیسےسےکم ہوکر 139روپے 6پیسے ریکارڈ کیا گیا۔

ڈیزل فی بیرل دو ڈالر 33 سینٹ کمی کے بعد فی بیرل قیمت 76.

32 ڈالر سے کم ہوکر 73.99 ڈالرپر آگئی، ڈیزل پرفی بیرل کسٹم ڈیوٹی 80 پیسےایکسچینج ایڈجسٹمنٹ 35 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی، ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 5 روبے 33 پیسے کمی ہو گئی۔ ایکس ریفائنری قیمت 155روپے 33پیسے سے کم ہوکر 149روپے99 پیسے پرآگئی۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایکس ریفائنری قیمت پیٹرول کی ریکارڈ کی فی بیرل

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی