ایک ہی شہر میں آرڈر کئے گئے نوکیا فونزکا پارسل 16 سال بعد موصول
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طرابلس: لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک موبائل شاپ پراچانک ایک پارسل موصول ہوا جس میں نوکیا فونز موجود تھے۔
دکان دار نے پارسل کھولاتو اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ وجہ؟ اس ڈبے میں موجود نوکیا موبائل فون، جو آج کے نہیں بلکہ 2010 کے تھے اور 16 سال بعد اپنی منزل تک پہنچے۔یہ فون 2010 میں آرڈر کیے گئے تھے، مگر 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی اور ملک کے نظام کی تباہی کے باعث یہ کھیپ برسوں تک گوداموں میں پڑی رہی۔
میڈیا ذرائع کے مطابق یہ وہ دور تھا جب نوکیا کے بٹن والے فون موبائل مارکیٹ پر راج کرتے تھے اور’میوزک ایڈیشن’ فون رکھنا اسٹیٹس سمجھا جاتا تھا۔ رسد کے نظام کے ٹوٹنے، کسٹمز کے غیر فعال ہونے اور سیکیورٹی مسائل کے باعث یہ پیکج وقت کی گرد میں گم ہو گیا۔ اب 2026 میں اچانک اس کی آمد نے سب کو چونکا دیا۔
ذرائع کے مطابق جب دکاندار نے پرانی پیکنگ کھولی تو وہ خود کو ہنسنے سے نہ روک سکا۔ موبائل فون ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے مذاقاً کہا کہ یہ فون ہیں یا کسی میوزیم کی چیزیں۔ کھیپ میں اس زمانے کے مہنگے اور مشہور ماڈلز بھی شامل تھے، جیسے میوزک ایڈیشن فون اور نوکیا کمیونی کیٹر، جو کبھی شان اور حیثیت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ فون بھیجنے والا اور وصول کرنے والا دونوں طرابلس ہی میں تھے، چند کلومیٹر کے فاصلے پر، مگر بدامنی، ٹوٹا ہوا نظام اور بے ترتیب حالات نے اس چھوٹے سے سفر کو سولہ سالہ مہم بنا دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر خوب تبصرے کیے۔ کسی نے کہا یہ فون اب نایاب خزانہ ہیں، تو کسی کے نزدیک یہ ایک شاندار دور کی یادگار ٹرافی ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آج کے دور میں بغیر ٹریکر والے فون سونے کے بھاؤ بک سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :