پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کر دیا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے جعلی کالز اور یو اے این نمبروں سے صارفین کو خبردار کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کردیا ہے۔پی ٹی اے نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسکیمرز آپ کی ذاتی اور مالی معلومات چرانے کیلئے پی ٹی اے، ایف آئی اے اور بینکوں کی نقالی کر رہے ہیں۔پیغام میں کہا گیا کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ کبھی بھی کال یا میسج پر آپ سے او ٹی پی، پن، شناختی کارڈ یا بائیو میٹرک نہیں مانگے گا، اتھارٹی نے کہا کہ موبائل صارفین کو چوکنا رہنے اور صرف سرکاری چینلز کے ذریعے تصدیق کرنے کی ہدایت کی۔اس سے قبل پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال متعلقہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صارفین کو خبردار موبائل صارفین کو پی ٹی اے نے
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔