ڈیجیٹل فراڈ، پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کر دیا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے جعلی کالز اور یو اے این نمبروں سے صارفین کو خبردار کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کردیا ہے۔
پی ٹی اے نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسکیمرز آپ کی ذاتی اور مالی معلومات چرانے کیلئے پی ٹی اے، ایف آئی اے اور بینکوں کی نقالی کر رہے ہیں۔
پیغام میں کہا گیا کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ کبھی بھی کال یا میسج پر آپ سے او ٹی پی، پن، شناختی کارڈ یا بائیو میٹرک نہیں مانگے گا، اتھارٹی نے کہا کہ موبائل صارفین کو چوکنا رہنے اور صرف سرکاری چینلز کے ذریعے تصدیق کرنے کی ہدایت کی۔
اس سے قبل پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال متعلقہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صارفین کو خبردار موبائل صارفین کو پی ٹی اے نے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔