لاہور اور اسلام آباد میں برفباری کا امکان، عالمی اداروں کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ملک بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید سرد لہر کے باعث لاہور میں رواں ماہ کے آخر میں برف باری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو انتہائی نایاب موسمی واقعہ ہو سکتا ہے۔ طویل المدتی موسمی ماڈلز کے مطابق سائبیرین ہواؤں کے طاقتور ریلے کے باعث پاکستان میں غیر معمولی حد تک درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے، جو تقریباً ایک صدی میں ایک بار دیکھے جانے والے حالات سے مماثلت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے شمالی علاقوں میں شدید سردی، برفباری کے بعد یخ بستہ ہواؤں کا راج
عالمی موسمی ماڈلز یورپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس (ای سی ایم ڈبلیو ایف)، گلوبل فور کاسٹ سسٹم (جی ایف ایس) اور ویدر آئیکون کی پیشگوئیوں کے مطابق 16 جنوری سے 25 جنوری 2026 کے درمیان ایک غیر معمولی سرمائی نظام پاکستان کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ اس کی شدت 20 جنوری سے 25 جنوری کے دوران عروج پر ہونے کا امکان ہے۔
موسمی ماہرین کے مطابق لاہور میں 5 انچ تک برفباری ہو سکتی ہے، جو شہر کی تاریخ میں نہایت نایاب واقعہ ہوگا۔ پیشگوئی کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت مائنس 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے مائنس 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے جبکہ دن کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی تو لاہور میں 1878 کے بعد پہلی بار برفباری ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق فضائی دباؤ میں تبدیلی، جیٹ اسٹریم کی آمد اور مغربی ہواؤں کے متعدد سلسلے پہلے درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ پیدا کریں گے، جس کے بعد ایک طاقتور کم دباؤ کا نظام وسطی ایشیا اور سائبیریا سے شدید سرد ہوائیں پاکستان میں داخل کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بالائی علاقوں میں برفباری کے دوران کونسی ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟
شدید سردی کی لہر کا اثر پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ کے نچلے علاقوں اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں محسوس کیا جائے گا۔ کئی ایسے علاقے جہاں عموماً درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے نہیں جاتا، وہاں بھی منفی درجہ حرارت متوقع ہے۔
دیگر اہم پیشگوئیوں کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں شہری علاقوں تک برفباری ہو سکتی ہے اور درجہ حرارت -5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے جا سکتا ہے۔ مری میں درجہ حرارت مائنس 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے اور 2 سے 4 فٹ تک شدید برفباری کا امکان ہے۔
کوئٹہ میں درجہ حرارت مائنس15 سے مائنس 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جہاں تیز ہواؤں کے باعث صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ کراچی میں بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو آخری بار 1929 میں ریکارڈ ہوا تھا۔
گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، ایبٹ آباد، مظفرآباد اور پشاور میں بھی برف یا ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شدید ٹھنڈ، برف باری اور سخت پالا پڑنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید برفباری میں اسکول جانے والے بچے کی ویڈیو وائرل، صدر نے ملاقات میں بڑا اعلان کردیا
محکمہ موسمیات اور ماہرین نے بلوچستان کے لیے 21 سے 25 جنوری کے دوران شدید سردی اور تیز ہواؤں کی وارننگ جاری کی ہے اور شہریوں کو فراسٹ بائٹ اور سفر کے دوران خطرات سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طویل المدتی پیشگوئی ہے اور حالات کے قریب آنے پر مزید اپڈیٹس جاری کی جائیں گی، جبکہ تفصیلی موسمی جائزہ 16 جنوری کو متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد بارش برفباری پاکستان شدید سردی کوئٹہ لاہور مری موسم موسمیاتی تبدیلیاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد پاکستان کوئٹہ لاہور موسمیاتی تبدیلیاں ڈگری سینٹی گریڈ کے مطابق کا امکان کے دوران سکتا ہے سکتی ہے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔