مودی حکومت کی ناکام سفارت کاری بے نقاب، امریکی ٹیرف سے بھارتی معیشت اور عوام دباؤ میں
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
نئی دہلی/واشنگٹن (نیوز ڈیسک) بھارت کی خارجہ اور تجارتی پالیسی ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی نے بھارتی معیشت کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق دکھاوے، جھوٹ اور تکبر پر مبنی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے منفی نتائج اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نک نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے نہ پانے کی اصل وجہ مودی حکومت کی ہٹ دھرمی کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اہم مرحلے پر لچک نہ دکھانے کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ امریکی وزیرِ تجارت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مودی گھبراہٹ کا شکار تھے، اسی وجہ سے انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست رابطہ تک نہیں کیا۔
امریکی حکام کے مطابق بھارت کے برعکس امریکا نے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے کر لیے ہیں، جس سے خطے میں بھارت کی سفارتی اور معاشی تنہائی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ماضی میں بھارت کو ایک “مردہ معیشت” قرار دے چکے ہیں، جبکہ اب امریکا کی جانب سے 500 فیصد تک بڑے ٹیرف کے نفاذ کا امکان ایک اور بڑی سفارتی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی نے بھارتی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت کی نااہل سفارت کاری اور غیر سنجیدہ فیصلوں کا خمیازہ براہِ راست بھارتی عوام بھگت رہے ہیں، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس امر کی واضح عکاس ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی محض نعروں اور دعوؤں تک محدود رہی، جبکہ عملی سطح پر بھارت کو مسلسل سفارتی اور معاشی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مودی حکومت کی کے مطابق
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔