ٹرمپ ڈاکٹرائن اور عالمی امن
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے عالمی سطح پر جاری بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے ارکان مسلسل گرین لینڈ پر اپنا حق جتا رہے ہیں، دوسری طرف ڈنمارک بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
اس کے ہمراہ یورپی یونین بھی امریکا کے مخالف بیانات دے رہی ہے۔ ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں وہ اپنی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔
انھوںنے اگلے روز نیویارک ٹائمز کو انٹرویو کے دوران مزید کہا کہ انھیں یہ حکم دینے کا مکمل اختیار ہے کیوں کہ وہ اپنے ملک کے کمانڈر انچیف ہیں اور مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔
کسی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ وہ صرف اپنے طے کردہ اخلاقیات کے اصول اور اپنی سوچ سے لیتے ہیں، کسی اور کی پروا نہیں۔ واحد چیز مجھے روک سکتی ہے، وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے۔
امریکا کے صدر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ان کا عالمی تعلقات کے حوالے سے کیا نظریہ ہے۔ وینزویلا پر حملہ کرنا اور وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر کے امریکا لانا ٹرمپ ڈاکٹرائن کا حصہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے قرارداد بحث کے لیے منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے کانگریس کی اجازت لینا ہوگی۔
ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے اپنی جماعت ریپبلکن کے پانچ سینیٹرز کو دھمکی دی کہ آیندہ یہ لوگ سینیٹر نہیں بن سکیں گے۔ البتہ امریکی صدر نے وینزویلا پر متوقع دوسرے حملے کی لہر کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں انھوں نے ونیزویلا کی جانب سے بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ونیزویلا کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، تیل وگیس انفراسٹرکچر کی ازسر نو تعمیر پر تعاون جاری ہے۔
امریکی صدر نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ان کے نزدیک امریکا اپنی طاقت کو منافع اور سیاسی بالادستی کے لیے استعمال کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ امریکا وینزویلا کا کنٹرول طویل مدت تک اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکا برسوں تک وینزویلاکو چلائے گا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ یوں عالمی سطح پر من مانی کی یہ ایک منفرد مثال قائم ہونے جا رہی ہے۔
گرین لینڈ کے تنازع کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملکیت سے کم کسی آپشن پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ انھوں نے یورپ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے یورپ پر واضح کیا ہے کہ امریکا کے بغیر نیٹو کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ میرے دورصدارت میں چین تائیوان پر فوجی کارروائی کی جرات نہیں کر ے گا، چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے، امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی تیل کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات میں گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم وینزویلا میں تیل کے شعبے میں 100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
وینزویلا میں سرمایہ کاری کے لیے کمپنیوں کو وینزویلا سے نہیں بلکہ امریکا سے معاملات طے کرنا ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ وینزویلا نے اگلے روز امریکا کو تین کروڑ بیرل تیل دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین، روس اور کوئی بھی ہم سے تیل خرید سکتا ہے، ہم یہ کاروبار آج ہی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
آج کی دنیا کے یہ وہ حقائق ہیں جن سے نظریں چرانا ممکن نہیں ہے، آج طاقت کے بل بوتے پر کسی بھی ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے اسے فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔
امریکا وینزویلا میں یہی کچھ کر رہا ہے۔ اب اس کی نظریں گرین لینڈ پر ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر دفاع نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں گولی پہلے ماریں گے سوال بعد میں پوچھیں گے۔
گرین لینڈ ڈنمارک کے اندر ایک خود مختار علاقہ ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی رہنماؤ ں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے گرین لینڈ کی سیکیورٹی کو سنجیدہ نہ لیا تو امریکا کارروائی کر سکتا ہے۔
گرین لینڈ عالمی میزائل دفاع کے لیے نہایت اہم ہے۔ یورپی ممالک نے گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی صدر کی دھمکیوں سے پیدا ہو نے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے غور شرو ع کر دیا۔
بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی سفارتکاروں کے اجلاس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے اندر بعض حلقو ں کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے سربراہ کے ساتھ براہ راست تصادم کے لیے تیار رہنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیٹو کے سفیروں نے آرکٹک میں دفاعی اخراجات میں اضافے، اضافی فوجی سازوسامان کی تعیناتی اور فوجی مشقیں تیز کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں تاکہ امریکا پر یہ واضح کیا جا سکے کہ گرین لینڈ کا خطہ کافی حد تک محفوظ ہے۔
نیٹو کے یورپی ارکان نے گرین لینڈ میں ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کو روکنے کے لیے دو مراحل پر مشتمل سفارتی کوششوں کا بھی آغاز کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلس نے قاہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضے کے امریکی صدر کے پیغامات انتہائی تشویشناک ہیں۔
یورپی یونین نے اس بات پر بات چیت کی ہے کہ اگر گرین لینڈ پر قبضے کے بارے میں امریکی دھمکی حقیقت پر مبنی ہوئی تو کس نوعیت کا رد عمل دیا جائے۔ ادھر جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے لیے کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 76 فیصد جرمن شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایسا شراکت دار نہیں رہا جس پر بھروسہ کیا جا سکے۔
صرف 15 فیصد افراد نے کہا کہ وہ امریکا پر اعتماد کرتے ہیں، جو اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹر سٹین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا موجودہ عالمی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادار ے کے مطابق ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس بات سے بچانا ہوگا کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے عالمی نظام کو لٹیروں کے اڈے میں تبدیل کر دیں۔ درمیانے اور کمزور ممالک کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
عالمی صورت حال کا منظرنامہ بہت زیادہ دھندلا ہو گیا ہے۔ امریکا اور یورپ کے مفادات آپس میں ٹکرا رہے ہیں جب کہ چین اور روس اپنے مفادات کے حوالے سے کوئی واضح لائن ڈرا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ادھر ایران میں مسلسل مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایرانی حکومت امریکا اور اسرائیل کی جانب انگلی اٹھا رہی ہے جب کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایرانی مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں اور جانی نقصان ہوا تو امریکا کارروائی کر سکتا ہے۔
یوں صورت حال بہت زیادہ سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ نیٹو اتحاد بھی کتنی دیر تک قائم رہتا ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ گرین لینڈ کے مسئلے پر نیٹو میں تقسیم واضح ہوتی جا رہی ہے۔
نیٹو میں شامل مغربی یورپ کے ملک امریکا کی پالیسی کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کے بھی مخالف ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ یورپ اور امریکا کے درمیان اس قدر وسیع پیمانے پر عدم اعتماد دیکھنے میں آ رہا ہے۔
امریکا کے صدر جس طرح ملک کو چلا رہے ہیں، اس سے آنے والے دنوں میں مسائل مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں۔ مغربی یورپ میں بھی اب یہ خیال تقویت پانے لگا ہے کہ وہ امریکا پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔
لاطینی امریکا میں بھی امریکا کے حوالے سے بہت سے تحفظات پائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے چھوٹے ملک اور خصوصاً وہ ممالک جو کسی نہ کسی تنازع میں موجود ہیں، وہ بھی اپنی سلامتی کے حوالے سے خطرات محسوس کر رہے ہیں۔
اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ عالمی حالات کس کروٹ بیٹھتے ہیں۔ دنیا ایک بار پھر کسی بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہے البتہ اطمینان کی یہ بات بھی موجود ہے کہ آج کے حالات اور ستر اسی برس پہلے کے حالات میں بہت زیادہ فرق ہے۔
عالمی قیادت جنگ کی تباہ کاریوں کو بخوبی سمجھتی ہے اس لیے وہ کوئی انتہائی اقدام اٹھانے سے پہلے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کریں گے۔ امریکا، مغربی یورپ، روس اور چین کی قیادت حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرتے ہوئے کہا وینزویلا میں گرین لینڈ پر نے گرین لینڈ یورپی یونین کے حوالے سے امریکی صدر کہ امریکا کیا ہے کہ انھوں نے سکتا ہے رہے ہیں ہے کہ ا کیا جا رہا ہے کے لیے کہا کہ رہی ہے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔