Express News:
2026-07-24@06:35:37 GMT

ٹرمپ ڈاکٹرائن اور عالمی امن

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے عالمی سطح پر جاری بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے ارکان مسلسل گرین لینڈ پر اپنا حق جتا رہے ہیں، دوسری طرف ڈنمارک بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

اس کے ہمراہ یورپی یونین بھی امریکا کے مخالف بیانات دے رہی ہے۔ ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں وہ اپنی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔

انھوںنے اگلے روز نیویارک ٹائمز کو انٹرویو کے دوران مزید کہا کہ انھیں یہ حکم دینے کا مکمل اختیار ہے کیوں کہ وہ اپنے ملک کے کمانڈر انچیف ہیں اور مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔

کسی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ وہ صرف اپنے طے کردہ اخلاقیات کے اصول اور اپنی سوچ سے لیتے ہیں، کسی اور کی پروا نہیں۔ واحد چیز مجھے روک سکتی ہے، وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے۔

امریکا کے صدر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ان کا عالمی تعلقات کے حوالے سے کیا نظریہ ہے۔ وینزویلا پر حملہ کرنا اور وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر کے امریکا لانا ٹرمپ ڈاکٹرائن کا حصہ ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے قرارداد بحث کے لیے منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے کانگریس کی اجازت لینا ہوگی۔

ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے اپنی جماعت ریپبلکن کے پانچ سینیٹرز کو دھمکی دی کہ آیندہ یہ لوگ سینیٹر نہیں بن سکیں گے۔ البتہ امریکی صدر نے وینزویلا پر متوقع دوسرے حملے کی لہر کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اپنے بیان میں انھوں نے ونیزویلا کی جانب سے بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ونیزویلا کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، تیل وگیس انفراسٹرکچر کی ازسر نو تعمیر پر تعاون جاری ہے۔

امریکی صدر نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ان کے نزدیک امریکا اپنی طاقت کو منافع اور سیاسی بالادستی کے لیے استعمال کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ امریکا وینزویلا کا کنٹرول طویل مدت تک اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکا برسوں تک وینزویلاکو چلائے گا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔ یوں عالمی سطح پر من مانی کی یہ ایک منفرد مثال قائم ہونے جا رہی ہے۔

گرین لینڈ کے تنازع کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملکیت سے کم کسی آپشن پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ انھوں نے یورپ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے یورپ پر واضح کیا ہے کہ امریکا کے بغیر نیٹو کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ میرے دورصدارت میں چین تائیوان پر فوجی کارروائی کی جرات نہیں کر ے گا، چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے، امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی تیل کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات میں گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم وینزویلا میں تیل کے شعبے میں 100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

وینزویلا میں سرمایہ کاری کے لیے کمپنیوں کو وینزویلا سے نہیں بلکہ امریکا سے معاملات طے کرنا ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ وینزویلا نے اگلے روز امریکا کو تین کروڑ بیرل تیل دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین، روس اور کوئی بھی ہم سے تیل خرید سکتا ہے، ہم یہ کاروبار آج ہی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آج کی دنیا کے یہ وہ حقائق ہیں جن سے نظریں چرانا ممکن نہیں ہے، آج طاقت کے بل بوتے پر کسی بھی ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے اسے فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔

امریکا وینزویلا میں یہی کچھ کر رہا ہے۔ اب اس کی نظریں گرین لینڈ پر ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر دفاع نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں گولی پہلے ماریں گے سوال بعد میں پوچھیں گے۔

گرین لینڈ ڈنمارک کے اندر ایک خود مختار علاقہ ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی رہنماؤ ں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے گرین لینڈ کی سیکیورٹی کو سنجیدہ نہ لیا تو امریکا کارروائی کر سکتا ہے۔

گرین لینڈ عالمی میزائل دفاع کے لیے نہایت اہم ہے۔ یورپی ممالک نے گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی صدر کی دھمکیوں سے پیدا ہو نے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے غور شرو ع کر دیا۔

بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی سفارتکاروں کے اجلاس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے اندر بعض حلقو ں کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے سربراہ کے ساتھ براہ راست تصادم کے لیے تیار رہنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیٹو کے سفیروں نے آرکٹک میں دفاعی اخراجات میں اضافے، اضافی فوجی سازوسامان کی تعیناتی اور فوجی مشقیں تیز کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں تاکہ امریکا پر یہ واضح کیا جا سکے کہ گرین لینڈ کا خطہ کافی حد تک محفوظ ہے۔

نیٹو کے یورپی ارکان نے گرین لینڈ میں ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کو روکنے کے لیے دو مراحل پر مشتمل سفارتی کوششوں کا بھی آغاز کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلس نے قاہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضے کے امریکی صدر کے پیغامات انتہائی تشویشناک ہیں۔

یورپی یونین نے اس بات پر بات چیت کی ہے کہ اگر گرین لینڈ پر قبضے کے بارے میں امریکی دھمکی حقیقت پر مبنی ہوئی تو کس نوعیت کا رد عمل دیا جائے۔ ادھر جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے لیے کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 76 فیصد جرمن شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایسا شراکت دار نہیں رہا جس پر بھروسہ کیا جا سکے۔

صرف 15 فیصد افراد نے کہا کہ وہ امریکا پر اعتماد کرتے ہیں، جو اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹر سٹین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا موجودہ عالمی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادار ے کے مطابق ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس بات سے بچانا ہوگا کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے عالمی نظام کو لٹیروں کے اڈے میں تبدیل کر دیں۔ درمیانے اور کمزور ممالک کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

عالمی صورت حال کا منظرنامہ بہت زیادہ دھندلا ہو گیا ہے۔ امریکا اور یورپ کے مفادات آپس میں ٹکرا رہے ہیں جب کہ چین اور روس اپنے مفادات کے حوالے سے کوئی واضح لائن ڈرا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ادھر ایران میں مسلسل مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایرانی حکومت امریکا اور اسرائیل کی جانب انگلی اٹھا رہی ہے جب کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایرانی مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں اور جانی نقصان ہوا تو امریکا کارروائی کر سکتا ہے۔

یوں صورت حال بہت زیادہ سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ نیٹو اتحاد بھی کتنی دیر تک قائم رہتا ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ گرین لینڈ کے مسئلے پر نیٹو میں تقسیم واضح ہوتی جا رہی ہے۔

نیٹو میں شامل مغربی یورپ کے ملک امریکا کی پالیسی کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کے بھی مخالف ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ یورپ اور امریکا کے درمیان اس قدر وسیع پیمانے پر عدم اعتماد دیکھنے میں آ رہا ہے۔

امریکا کے صدر جس طرح ملک کو چلا رہے ہیں، اس سے آنے والے دنوں میں مسائل مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں۔ مغربی یورپ میں بھی اب یہ خیال تقویت پانے لگا ہے کہ وہ امریکا پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔

لاطینی امریکا میں بھی امریکا کے حوالے سے بہت سے تحفظات پائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے چھوٹے ملک اور خصوصاً وہ ممالک جو کسی نہ کسی تنازع میں موجود ہیں، وہ بھی اپنی سلامتی کے حوالے سے خطرات محسوس کر رہے ہیں۔

اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ عالمی حالات کس کروٹ بیٹھتے ہیں۔ دنیا ایک بار پھر کسی بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہے البتہ اطمینان کی یہ بات بھی موجود ہے کہ آج کے حالات اور ستر اسی برس پہلے کے حالات میں بہت زیادہ فرق ہے۔

عالمی قیادت جنگ کی تباہ کاریوں کو بخوبی سمجھتی ہے اس لیے وہ کوئی انتہائی اقدام اٹھانے سے پہلے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کریں گے۔ امریکا، مغربی یورپ، روس اور چین کی قیادت حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرتے ہوئے کہا وینزویلا میں گرین لینڈ پر نے گرین لینڈ یورپی یونین کے حوالے سے امریکی صدر کہ امریکا کیا ہے کہ انھوں نے سکتا ہے رہے ہیں ہے کہ ا کیا جا رہا ہے کے لیے کہا کہ رہی ہے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا