گرین لینڈ کی پارلیمنٹ کی تمام پانچ پارٹیوں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکی نہیں بننا چاہتے، ہم ڈینش بھی نہیں بننا چاہتے، ہم گرین لینڈرز ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ہمارا مستقبل خود گرین لینڈ کے لوگوں کے فیصلے پر منحصر ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے واضح طور پر دہرا دی کہ گرین لینڈ بیچنے یا غیر ارادی طور پر شامل کیے جانے کا مشن نہیں ہے۔

اسی طرح گرین لینڈ کے وزیر اعظم مُٹے ایگیدی نے بھی کہا کہ ہم نہ تو امریکی بننا چاہتے ہیں، نہ ڈینش بلکہ ہم اپنے طور پر کلالیت (Kalaallit) (گرین لینڈ کے باشندے) رہنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرین لینڈ بیچنے یا کسی طاقت کے زیرِ تسلط نہیں آسکتا۔

گرین لینڈ کی ڈیموکریٹٹ پارٹی کے رُکن جینز فریڈرک نیلسن جو پارلیمانی انتخابات میں اہم کردار رکھتے ہیں، نے بھی سخت الفاظ میں امریکی موقف کو رد کیا اور کہا کہ گرین لینڈ فروخت نہیں ہوگا.

گرین لینڈ کے لوگوں اور سیاسی نمائندوں نے ٹرمپ کے رویّے کو تضحیک اور دھمکی آمیز قرار دیا ہے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی حیثیت کو بزور طاقت تبدیل کرنے کی بات کی گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ کے بننا چاہتے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار