’ہم امریکی نہیں بننا چاہتے‘ گرین لینڈ نے ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
گرین لینڈ کی پارلیمنٹ کی تمام پانچ پارٹیوں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکی نہیں بننا چاہتے، ہم ڈینش بھی نہیں بننا چاہتے، ہم گرین لینڈرز ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ ہمارا مستقبل خود گرین لینڈ کے لوگوں کے فیصلے پر منحصر ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے واضح طور پر دہرا دی کہ گرین لینڈ بیچنے یا غیر ارادی طور پر شامل کیے جانے کا مشن نہیں ہے۔
اسی طرح گرین لینڈ کے وزیر اعظم مُٹے ایگیدی نے بھی کہا کہ ہم نہ تو امریکی بننا چاہتے ہیں، نہ ڈینش بلکہ ہم اپنے طور پر کلالیت (Kalaallit) (گرین لینڈ کے باشندے) رہنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرین لینڈ بیچنے یا کسی طاقت کے زیرِ تسلط نہیں آسکتا۔
گرین لینڈ کی ڈیموکریٹٹ پارٹی کے رُکن جینز فریڈرک نیلسن جو پارلیمانی انتخابات میں اہم کردار رکھتے ہیں، نے بھی سخت الفاظ میں امریکی موقف کو رد کیا اور کہا کہ گرین لینڈ فروخت نہیں ہوگا.
گرین لینڈ کے لوگوں اور سیاسی نمائندوں نے ٹرمپ کے رویّے کو تضحیک اور دھمکی آمیز قرار دیا ہے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی حیثیت کو بزور طاقت تبدیل کرنے کی بات کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ کے بننا چاہتے
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔