8 فروری احتجاج سے متعلق ابھی کچھ حتمی نہیں، فیصلہ ہونا باقی ہے، لطیف کھوسہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ پارٹی کے 8 فروری کے احتجاج سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر نے عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی، ایاز صادق فارم 47 والے نہیں، لطیف کھوسہ کا وی نیوز کو خصوصی انٹرویو
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 8 فروری کو عوامی احتجاج اور سڑکوں پر تحریک کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہے تاہم احتجاج کی حتمی حکمتِ عملی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس اور اندرونی مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔
لطیف کھوسہ نے بتایا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کروائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس سے قبل بھی عدالت میں درخواستیں اور توہینِ عدالت کی درخواستیں دائر کر چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے منگل کا دن اہلخانہ اور وکلا جبکہ جمعرات کا دن پارٹی رہنماؤں کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فل بینچ نے دیا تھا، تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں نئے سال کی تعطیلات اور دیگر وجوہات کے باعث بعض امور زیرِ التوا ہیں تاہم جلد نئی درخواست جمع کرائی جائے گی۔ لطیف کھوسہ نے امید ظاہر کی کہ عمران خان سے ملاقات ضرور ہوگی۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے لیے قائم کی گئی کمیٹی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کی اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات ضرور ہوئی ہے جس میں پارٹی اور حکومتی نمائندے شریک تھے جبکہ رانا ثنا اللہ بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور وہ خود بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ہر ہفتے ملاقات ہونی چاہیے جبکہ انہوں (اسپیکر) نے یقین دہانی کروائی کہ وہ بذات خود حکومتی نمائندوں سے بات کر کے عمران خان سے ملاقات یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسپیکر ایاز صادق سے 12 جنوری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا جس میں ایاز صادق سے پیشرفت لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایاز صادق نے کہا کہ بجائے آپ کہیں اور جائیں میں ہی اس معاملے میں آپ کی مدد کروں گا کیوں کہ اسپیکر نیوٹرل ہوتا ہے، اجلاس میں قومی اسمبلی کے اہم رہنما، بشمول ایاز صادق اور محمود خان، بھی شامل ہوں گے اور قائد حزب اختلاف کے لیے حتمی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا‘۔
کیا عمران خان سے ملاقات کے لیے مذاکرات ہی آخری حل ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ آخری حل نہیں ہے، معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت بغیر وکلا کے نہیں چل سکتی، انہوں نے عمران خان کو اوپر نیچے سزا دے دی، فل حال ان کی تشفی ہوگئی ہے، اب چونکہ عدالت میں چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں تو ہماری درخواستوں پر بھی سماعت ہوگی۔
مزید پڑھیے: فیصلہ سازی کور کمیٹی کرتی ہے، علیمہ خان یا گنڈاپور کا سیاسی کردار نہیں، لطیف کھوسہ
پی ٹی آئی کی مشکلات کم کرنے اور عمران خان سے ملاقات کے لیے کیا صدر آصف علی زرداری کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ سہیل آفریدی سندھ کے دورے پر ہیں، مراد علی شاہ نے انہیں خوش آمدید کہا ہے اور کہا ہے کہ کھانے پر مدعو کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے وزرا بھی مثبت بیانات دے رہے ہیں، ظاہر ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورہ کراچی پر سیاست ہی کی باتیں ہوں گی، دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سہیل آفریدی کو کتنی پذیرائی دیتی ہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’کرنے کو تو صدر آصف علی زرداری کردار ادا کرسکتے ہیں، ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ ہمارا مینڈیٹ تسلیم کرو، ہم نواز شریف کو بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے جو ووٹ کو عزت دو نعرہ لگایا تھا تو خدارا ووٹ کو عزت دیں اور ہمارا مینڈیٹ واپس کریں‘۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کو 2 سال ہونے کو ہیں، عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے آپ کو مینڈیٹ دیا تو آپ نے اس پر ڈاکا کیوں مارنے دیا۔
مزید پڑھیں: ’عمران خان کی ممکنہ رہائی‘، فیصل واوڈا اور لطیف کھوسہ کا ایک دوسرے کو چیلنج
لطیف کھوسہ نے کہا کہ احتجاج کا بنیادی مقصد عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور ووٹ کی عزت ہے۔ انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کے کردار کے امکان کو بھی تسلیم کیا تاہم واضح کیا کہ حکومت کے قیام کے بعد پارٹی کے مطالبات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پارٹی کے ایم این ایز نے لکھ کر ایاز صادق کو بتایا ہے کہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور علامہ ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے حوالے سے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس ہی فیصلہ کریں گے کہ کس قسم کا احتجاج ہوگا، 12 جنوری کو ہی اس حوالے سے ہماری پارلیمانی پارٹی کی نشست بھی ہوگی جس میں گفت و شنید بھی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ سمیت تمام صوبوں کے پارلیمانی نمائندوں اور پارٹی قیادت کے مشورے کے بعد احتجاج کی مکمل منصوبہ بندی کی جائے گی اور تمام پارٹی کارکنان کو یکساں طور پر متحرک کیا جائے گا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تحریک مکمل طور پر پرامن ہوگی اور اس کا مقصد صرف عوامی مینڈیٹ کی حفاظت اور جمہوری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی
آخر میں انہوں نے کہا کہ 12 جنوری کو پارلیمانی اجلاس میں حتمی حکمت عملی طے ہوگی اور اس کے بعد ملک گیر احتجاج کے لیے ہر صوبے میں مکمل موبلائزیشن کی جائے گی اور حتمی فیصلہ رواں ماہ میں ہی ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی پی ٹی آئی 8 فروری احتجاج پی ٹی آئی احتجاج لطیف کھوسہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی 8 فروری احتجاج پی ٹی ا ئی احتجاج لطیف کھوسہ عمران خان سے ملاقات کے لیے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ کر ایاز صادق قومی اسمبلی عدالت میں پی ٹی ا ئی بتایا کہ پارٹی کے جائے گی گی اور کے بعد
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔