خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے طارق رحمان کو چیئرمین مقرر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے باضابطہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔
یہ عہدہ سابق وزیر اعظم اور بی این پی کی چیئرمین خالدہ ضیاء کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا جس پر اب ان کے بیٹے کو نامزد کیا گیا ہے۔
پارٹی آئین کے مطابق قیادت کی تبدیلی کے لیے بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طارق رحمان کے نام کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا: پاکستان کے ہائی کمشنر کی بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات
اس فیصلے کے ساتھ ہی طارق رحمان نے پارٹی آئین کے تحت باضابطہ طور پر بی این پی کے چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جس سے پارٹی قیادت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے عبوری چیئرمین طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دنوں واپس اپنے وطن پہنچ گئے تھے۔ ان کی آمد پر دارالحکومت ڈھاکا اور سلیٹ میں حامیوں نے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بی این پی طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بی این پی بنگلہ دیش بی این پی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔