کئی بھارتی ریاستوں میں مطلوب خطرناک ملزم رحمان ڈکیت گجرات سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کئی بھارتی ریاستوں میں مطلوب ملزم رحمان ڈکیت کو گجرات کے علاقے سورت سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈٹیکشن آف کرائم برانچ نے بھوپال میں سرگرم خطرناک جرائم پیشہ گینگ کے سرغنہ عابد علی ایرانی المعروف راجو ایرانی یا رحمان ڈاکیت کو شہر سے گرفتار کر لیا۔ ملزم مدھیہ پردیش میں بڑے پولیس آپریشن کے بعد فرار ہو گیا تھا اور مختلف ریاستوں میں روپوشی کے بعد سورت پہنچا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: داؤد ابراہیم کو زہر دے دیا گیا، بھارتی میڈیا کا دعوٰی
عابد علی ایرانی مدھیہ پردیش، ہریانہ، دہلی، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے بھوپال میں ایک خاندان کے ایک فرد پر پولیس مخبر ہونے کے شبہے میں پورے خاندان کو زندہ جلانے کی کوشش بھی کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 28 دسمبر کو تقریباً 150 اہلکاروں نے بھوپال کے علاقے ایرانی ڈیرہ میں بڑا کریک ڈاؤن کیا تھا، جہاں سے ملزم مبینہ طور پر اپنے جرائم کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 34 مردوں اور 10 خواتین کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، تاہم ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق عابد علی ایرانی شاہانہ طرزِ زندگی گزار رہا تھا اور اس کے پاس لگژری گاڑیاں، مہنگی موٹر سائیکلیں اور گھوڑے بھی موجود تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مختلف ریاستوں میں گرفتار ہونے والے گینگ کے ارکان کو قانونی مدد فراہم کرتا تھا اور چوری و ڈکیتی کی وارداتوں سے ایک مقررہ حصہ وصول کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لیاری کا گینگسٹر رحمان ڈکیت جس نے اپنی ماں کو بھی نہیں بخشا
پولیس کے مطابق بھوپال سے فرار ہونے کے بعد ملزم پہلے مہاراشٹر گیا اور بعد ازاں سورت پہنچا، جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گینگ کے ارکان اکثر خود کو سی بی آئی یا پولیس افسر ظاہر کر کے شہریوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ کئی واقعات میں وہ لوگوں کو آنے والی پولیس چیکنگ کا کہہ کر خوفزدہ کرتے اور قیمتی سامان لے کر فرار ہو جاتے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ گینگ کے افراد بعض اوقات متاثرہ شخص پر کیچڑ یا دیگر اشیا پھینک کر توجہ ہٹاتے اور اسی دوران زیورات یا نقدی چرا لیتے تھے۔ کچھ وارداتوں میں وہ مذہبی فقیر کا بھیس بدل کر گھروں میں داخل ہوتے رہے۔ ہائی ویز پر بھی جعلی ناکے لگا کر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے ڈکیتیاں کی جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق چھاپوں کے دوران علاقے کی خواتین مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کرتیں تاکہ گینگ کے افراد کو فرار کا موقع مل سکے۔ نئے بھرتی ہونے والوں کو پولیس اہلکاروں جیسا لہجہ اور انداز اپنانے کی باقاعدہ تربیت بھی دی جاتی تھی تاکہ جعلسازی مزید مؤثر ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بھوپت ڈاکو، جو اسلام قبول کرنے کے بعد امین یوسف بن گیا
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور اس گینگ سے وابستہ مزید افراد کی گرفتاری کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت رحمان ڈکیت عابد علی ایرانی گجرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت رحمان ڈکیت عابد علی ایرانی گجرات عابد علی ایرانی ریاستوں میں رحمان ڈکیت سے گرفتار کے مطابق گینگ کے فرار ہو کے بعد
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔