دبئی‘ گلیوں میں کچرا پھینکنے پر جرمانہ عاید
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: دبئی حکام نے گلیوں میں کچرا پھینکنے پر پابندی کا قانون نافذ کرتے ہوئے سزا کے طور پر سیکڑوں درہم جرمانہ لگا دیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق دبئی میونسپلٹی نے صفائی کا معیار اور اس کے نظام کو شہر کی بہتری کے لیے خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ مذکورہ اقدام اسمارٹ ویسٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق کوڑا جمع کرنے اور منتقل کرنے والی کچھ گاڑیوں پر اسمارٹ کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ کیمرے جو تصاویر لیتے ہیں وہ فوراً ڈیجیٹل سسٹم میں منتقل ہو جاتی ہیں، جہاں انہیں خصوصی ڈیش بورڈ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اعلیٰ حکام نے عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے پر 500 درہم تک جرمانہ عایدکردیا ہے۔ دبئی میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر مروان احمد بن غلیطہ نے کہا کہ یہ منصوبہ شہری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پائیدار پالیسیوں کی تیاری کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔