قابض اسرائیلی فوج ،غزہ 91 ویں روز بھی سیزفائز کے معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے، فضائی حملوں، مشینی گاڑیوں کی فائرنگ اور ہیلی کاپٹر سے مسلسل گولہ باری کے نتیجے میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید ہوگئے ۔ حماس کے سیاسی بیورو کے عہدیدار نے کہا کہ حماس غزہ میں با اختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد دستبردار ہونے کو تیار ہے ۔جرمن ریڈ کراس نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سردیوں کا موسم خاص طور پر بچوں، زخمیوں اور بزرگوں کے لیے نہایت خوفناک ثابت ہورہا ہے۔
مشرق وسطیٰ تازہ ترین صورتحال اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ خطے میں بدامنی محض حادثہ نہیں، بلکہ ایک منظم عمل ہے، جسے دانستہ طور پر طول دیا جا رہا ہے۔غزہ کی پٹی ایک بار پھر دنیا کے ضمیر پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن معاہدے صرف کمزور فریق کے لیے لازم سمجھے جاتے ہیں۔
ہرروز فلسطینیوں کی شہادت ایک معمولی خبر کے طور پر عالمی میڈیا میں چند لمحے جگہ پاتی ہے اور پھر فراموش کر دی جاتی ہے، مگر ان شہادتوں کے پیچھے جو انسانی المیہ ہے، وہ کسی خبر کی سرخی میں سمویا نہیں جا سکتا۔ غزہ میں ہر شہید ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اگر جنگ بندی واقعی نافذ ہے تو پھر یہ خون کس جرم کی سزا ہے؟غزہ امن معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونا محض اسرائیلی پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ان تمام قوتوں کی اخلاقی شکست ہے جنہوں نے اس معاہدے کی ضمانت لی تھی۔
امریکا، یورپی طاقتیں اور دیگر عالمی ادارے جو خود کو امن کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس خاموشی کے ذریعے دراصل طاقتور کے جرم کو جواز فراہم کر رہے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ عالمی نظام میں انصاف کا معیار یکساں نہیں۔ فلسطینی جان کی قیمت اور ہے، اور دیگر جانوں کی قیمت کچھ اور۔
1948ء میں اقوام متحدہ کی جس تقسیم کے مطابق اسرائیل قائم ہوا تھا، اس سے قطع نظر کہ وہ تقسیم درست تھی یا غلط، لیکن اسرائیل نے ان حدود کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اس سے بہت زیادہ علاقہ قبضہ میں لے لیا اور لاکھوں فلسطینیوں کو دربدر کر دیا۔ پھر عرب اسرائیل جنگ میں اس نے بیت المقدس کے علاقہ پر بھی قبضہ کر لیا، جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا، اور ہم مسلمانوں نے نہ پہلے تسلیم کیا ہے اور نہ آیندہ تسلیم کریں گے۔ یعنی اسرائیل نے عملاًسرحدیں بھی تسلیم نہیں کیں جو اقوام متحدہ نے قائم کی تھیں اور ان کی بنیاد پر فلسطین اور اسرائیل کی دو الگ ریاستیں وجود میں آنا تھیں۔
اسرائیل تو اس سے آگے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی بات کرتا ہے۔ گریٹر اسرائیل کیا ہے؟ اس میں عراق، مصر، شام، اردن، بحرین، لبنان کے علاقے ہیں، اس میں آدھا سعودی عرب بھی ہے، مدینہ منورہ اس میں ہے لیکن مکہ مکرمہ نہیں ہے۔ اسرائیل اس ریاست کا دعویدار ہے اور اس کے حصول کے لیے کوشش کر رہا ہے اور اس میں اسے کسی جائز ناجائز اور ضابطہ و قانون کی پرواہ نہیں ہے۔ فلسطین کی حالیہ صورتحال اسرائیل کی مسلط کردہ ہے کیونکہ غزہ کا علاقہ خالی کرانا اس کے منصوبے میں شامل ہے، لیکن فلسطینی ڈٹ گئے ہیں کہ ہم خالی نہیں کریں گے، انھوں نے سترہزار شہادتیں دے دی ہیں لیکن ابھی تک وہ قبضہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں بھی آ چکی ہیں اور دنیا بھر سے مخالفت جاری ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے غزہ میں فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتہ ہوا تھا اور اس کی شرائط کی بنیاد پر قیدیوں کا تبادلہ بھی شروع ہو گیا تھا، اس جنگ بندی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد اسرائیل نے توڑا ہے اور تب سے اس جنگ کی کمان بھی ٹرمپ نے سنبھالی ہوئی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل نہ اقوام متحدہ کی سرحدیں تسلیم کر رہا ہے اور نہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے قبول کر رہا ہے، وہ کسی جائز اور ناجائز کی پرواہ کیے بغیر گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اسے اپنے ہر اقدام میں امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب ایران میں اپوزیشن کے احتجاج ہوں یا غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، یہ سب ایک ہی عالمی نظام کے مختلف مظاہر ہیں جہاں قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے بے رحم ہے۔ایران میں اپوزیشن کی حالیہ احتجاجی لہر محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہونے والی عوامی بے چینی کا اظہار ہے۔ معاشی دباؤ، عالمی پابندیاں، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی جمود نے عام ایرانی شہری کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی اب ممکن نہیں رہی۔ بظاہر یہ احتجاج داخلی نوعیت کا معاملہ ہے، مگر درحقیقت اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ایران مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کے اندرونی حالات خطے کے توازنِ طاقت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایرانی عوام احتجاج کیوں کر رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ کیا یہ احتجاج انسانی حقوق کے لیے تشویش کا باعث ہیں یا پھر ایک اور موقع کہ ایران کو مزید دباؤ میں لایا جائے؟
مشرق وسطیٰ میں یمن جیسے تنازعات، ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی (امریکی حملوں اور دھمکیوں کے تناظر میں)، اور خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی ،نظریاتی اور حقیقت پسندانہ گروہوں کے درمیان، جیسے اہم عوامل حاوی ہیں، جو عالمی منڈیوں اور مذاکرات کو متاثر کر رہے ہیں اور عدم استحکام بڑھا رہے ہیں۔
نئے سال میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان پراکسی تنازعات جیسے یمن میں اور نئے اتحاد ،جیسے پرانے حریفوں کے درمیان کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔نئی اسرائیلی جارحیت کی بے لگامی، ایران، لبنان،شام اور یمن پر حملوں، غزہ پر روزانہ گھناؤنی کارروائیوں نے عملی طور پر مشرق وسطیٰ کے ایک ’’نیو نارمل‘‘ کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ عالمی فورمز پر مذمتی قراردادوں کی بھرمار اور دنیا بھر میں احتجاجوں کے انبار کے باوجود کوئی خاص اقدامات نظر نہ آنے پر اسرائیل کی ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھی کہ اس نے قطر میں موجود حماس کی مذاکراتی ٹیم پر حملے کو بھی اس ’’نیو نارمل‘‘ کا حصہ بنانے کی کوشش کر ڈالی۔ اس وقت ’’یاہو‘‘ نے ٹرمپ کو ضرورت سے زیادہ سیاسی طور پر استعمال کرکے نہ صرف ان کی بلکہ پورے امریکا کی ساکھ دا پر لگا رکھی ہے۔ امریکا پر بے اعتباری میں اضافے کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے منظر نامے پر پیدا ہونے والی نئی ’’وسعتیں‘‘ چین کو مزید قریب آنے کا موقع فراہم کرسکتی ہیں جس کا یقیناً بیجنگ میں جائزہ لیا جا رہا ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی جڑیں صرف حال میں نہیں بلکہ ماضی کی ان غلطیوں میں پیوست ہیں جو نوآبادیاتی دور میں کی گئیں۔ سرحدوں کی من مانی تقسیم، قومیتوں کو نظرانداز کرنا اور مصنوعی ریاستی ڈھانچے کھڑے کرنا وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس خطے کو مستقل عدم استحکام کا شکار بنایا۔ فلسطین کا مسئلہ اس کی سب سے نمایاں مثال ہے، جہاں ایک قوم کو اس کے گھروں، زمینوں اور شناخت سے محروم کر دیا گیا۔ اس ناانصافی کے خلاف مزاحمت کو دہشت گردی قرار دے کر دنیا اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
جب تک عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کو اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے میدانِ جنگ کے طور پر استعمال کرتی رہیں گی، یہاں امن ایک خواب ہی رہے گا۔ پراکسی جنگیں، اسلحے کی تجارت اور سیاسی اثرورسوخ کی کشمکش نے اس خطے کو ایک مستقل بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکا اور دیگر علاقائی طاقتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے کھیل میں مصروف ہیں، مگر اس کھیل کی قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پوری انسانیت کے لیے آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم نے ترقی، ٹیکنالوجی اور علم میں کتنا سفر طے کر لیا ہے، مگر اخلاقیات اور انصاف کے میدان میں ہم اب بھی ابتدائی دور میں کھڑے ہیں، اگر طاقت ہی سب کچھ ہے تو پھر قانون، معاہدے اور انسانی حقوق محض الفاظ ہیں، مگر اگر دنیا نے اس روش پر نظرثانی نہ کی تو تاریخ کا فیصلہ بے رحم ہوگا، اور آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال کریں گی کہ جب غزہ جل رہا تھا، ایران سسک رہا تھا اور مشرقِ وسطیٰ لہولہان تھا، تو تم کہاں تھے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ اسرائیل کی کر رہے ہیں نہیں بلکہ کے درمیان کے لیے ہے اور اور اس رہا ہے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو