Express News:
2026-07-24@01:17:05 GMT

مشرق وسطیٰ کے تنازعات

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

قابض اسرائیلی فوج ،غزہ 91 ویں روز بھی سیزفائز کے معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے، فضائی حملوں، مشینی گاڑیوں کی فائرنگ اور ہیلی کاپٹر سے مسلسل گولہ باری کے نتیجے میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید ہوگئے ۔ حماس کے سیاسی بیورو کے عہدیدار نے کہا کہ حماس غزہ میں با اختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد دستبردار ہونے کو تیار ہے ۔جرمن ریڈ کراس نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سردیوں کا موسم خاص طور پر بچوں، زخمیوں اور بزرگوں کے لیے نہایت خوفناک ثابت ہورہا ہے۔

 مشرق وسطیٰ تازہ ترین صورتحال اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ خطے میں بدامنی محض حادثہ نہیں، بلکہ ایک منظم عمل ہے، جسے دانستہ طور پر طول دیا جا رہا ہے۔غزہ کی پٹی ایک بار پھر دنیا کے ضمیر پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن معاہدے صرف کمزور فریق کے لیے لازم سمجھے جاتے ہیں۔

ہرروز فلسطینیوں کی شہادت ایک معمولی خبر کے طور پر عالمی میڈیا میں چند لمحے جگہ پاتی ہے اور پھر فراموش کر دی جاتی ہے، مگر ان شہادتوں کے پیچھے جو انسانی المیہ ہے، وہ کسی خبر کی سرخی میں سمویا نہیں جا سکتا۔ غزہ میں ہر شہید ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اگر جنگ بندی واقعی نافذ ہے تو پھر یہ خون کس جرم کی سزا ہے؟غزہ امن معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونا محض اسرائیلی پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ان تمام قوتوں کی اخلاقی شکست ہے جنہوں نے اس معاہدے کی ضمانت لی تھی۔

امریکا، یورپی طاقتیں اور دیگر عالمی ادارے جو خود کو امن کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس خاموشی کے ذریعے دراصل طاقتور کے جرم کو جواز فراہم کر رہے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ عالمی نظام میں انصاف کا معیار یکساں نہیں۔ فلسطینی جان کی قیمت اور ہے، اور دیگر جانوں کی قیمت کچھ اور۔

 1948ء میں اقوام متحدہ کی جس تقسیم کے مطابق اسرائیل قائم ہوا تھا، اس سے قطع نظر کہ وہ تقسیم درست تھی یا غلط، لیکن اسرائیل نے ان حدود کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اس سے بہت زیادہ علاقہ قبضہ میں لے لیا اور لاکھوں فلسطینیوں کو دربدر کر دیا۔ پھر عرب اسرائیل جنگ میں اس نے بیت المقدس کے علاقہ پر بھی قبضہ کر لیا، جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا، اور ہم مسلمانوں نے نہ پہلے تسلیم کیا ہے اور نہ آیندہ تسلیم کریں گے۔ یعنی اسرائیل نے عملاًسرحدیں بھی تسلیم نہیں کیں جو اقوام متحدہ نے قائم کی تھیں اور ان کی بنیاد پر فلسطین اور اسرائیل کی دو الگ ریاستیں وجود میں آنا تھیں۔

اسرائیل تو اس سے آگے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی بات کرتا ہے۔ گریٹر اسرائیل کیا ہے؟ اس میں عراق، مصر، شام، اردن، بحرین، لبنان کے علاقے ہیں، اس میں آدھا سعودی عرب بھی ہے، مدینہ منورہ اس میں ہے لیکن مکہ مکرمہ نہیں ہے۔ اسرائیل اس ریاست کا دعویدار ہے اور اس کے حصول کے لیے کوشش کر رہا ہے اور اس میں اسے کسی جائز ناجائز اور ضابطہ و قانون کی پرواہ نہیں ہے۔ فلسطین کی حالیہ صورتحال اسرائیل کی مسلط کردہ ہے کیونکہ غزہ کا علاقہ خالی کرانا اس کے منصوبے میں شامل ہے، لیکن فلسطینی ڈٹ گئے ہیں کہ ہم خالی نہیں کریں گے، انھوں نے سترہزار شہادتیں دے دی ہیں لیکن ابھی تک وہ قبضہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں بھی آ چکی ہیں اور دنیا بھر سے مخالفت جاری ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے غزہ میں فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتہ ہوا تھا اور اس کی شرائط کی بنیاد پر قیدیوں کا تبادلہ بھی شروع ہو گیا تھا، اس جنگ بندی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد اسرائیل نے توڑا ہے اور تب سے اس جنگ کی کمان بھی ٹرمپ نے سنبھالی ہوئی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل نہ اقوام متحدہ کی سرحدیں تسلیم کر رہا ہے اور نہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے قبول کر رہا ہے، وہ کسی جائز اور ناجائز کی پرواہ کیے بغیر گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اسے اپنے ہر اقدام میں امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب ایران میں اپوزیشن کے احتجاج ہوں یا غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، یہ سب ایک ہی عالمی نظام کے مختلف مظاہر ہیں جہاں قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے بے رحم ہے۔ایران میں اپوزیشن کی حالیہ احتجاجی لہر محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہونے والی عوامی بے چینی کا اظہار ہے۔ معاشی دباؤ، عالمی پابندیاں، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی جمود نے عام ایرانی شہری کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی اب ممکن نہیں رہی۔ بظاہر یہ احتجاج داخلی نوعیت کا معاملہ ہے، مگر درحقیقت اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔

ایران مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کے اندرونی حالات خطے کے توازنِ طاقت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایرانی عوام احتجاج کیوں کر رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ کیا یہ احتجاج انسانی حقوق کے لیے تشویش کا باعث ہیں یا پھر ایک اور موقع کہ ایران کو مزید دباؤ میں لایا جائے؟

 مشرق وسطیٰ میں یمن جیسے تنازعات، ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی (امریکی حملوں اور دھمکیوں کے تناظر میں)، اور خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی ،نظریاتی اور حقیقت پسندانہ گروہوں کے درمیان، جیسے اہم عوامل حاوی ہیں، جو عالمی منڈیوں اور مذاکرات کو متاثر کر رہے ہیں اور عدم استحکام بڑھا رہے ہیں۔

نئے سال میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان پراکسی تنازعات جیسے یمن میں اور نئے اتحاد ،جیسے پرانے حریفوں کے درمیان کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔نئی اسرائیلی جارحیت کی بے لگامی، ایران، لبنان،شام اور یمن پر حملوں، غزہ پر روزانہ گھناؤنی کارروائیوں نے عملی طور پر مشرق وسطیٰ کے ایک ’’نیو نارمل‘‘ کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ عالمی فورمز پر مذمتی قراردادوں کی بھرمار اور دنیا بھر میں احتجاجوں کے انبار کے باوجود کوئی خاص اقدامات نظر نہ آنے پر اسرائیل کی ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھی کہ اس نے قطر میں موجود حماس کی مذاکراتی ٹیم پر حملے کو بھی اس ’’نیو نارمل‘‘ کا حصہ بنانے کی کوشش کر ڈالی۔ اس وقت ’’یاہو‘‘ نے ٹرمپ کو ضرورت سے زیادہ سیاسی طور پر استعمال کرکے نہ صرف ان کی بلکہ پورے امریکا کی ساکھ دا پر لگا رکھی ہے۔ امریکا پر بے اعتباری میں اضافے کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے منظر نامے پر پیدا ہونے والی نئی ’’وسعتیں‘‘ چین کو مزید قریب آنے کا موقع فراہم کرسکتی ہیں جس کا یقیناً بیجنگ میں جائزہ لیا جا رہا ہوگا۔

 مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی جڑیں صرف حال میں نہیں بلکہ ماضی کی ان غلطیوں میں پیوست ہیں جو نوآبادیاتی دور میں کی گئیں۔ سرحدوں کی من مانی تقسیم، قومیتوں کو نظرانداز کرنا اور مصنوعی ریاستی ڈھانچے کھڑے کرنا وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس خطے کو مستقل عدم استحکام کا شکار بنایا۔ فلسطین کا مسئلہ اس کی سب سے نمایاں مثال ہے، جہاں ایک قوم کو اس کے گھروں، زمینوں اور شناخت سے محروم کر دیا گیا۔ اس ناانصافی کے خلاف مزاحمت کو دہشت گردی قرار دے کر دنیا اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

جب تک عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کو اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے میدانِ جنگ کے طور پر استعمال کرتی رہیں گی، یہاں امن ایک خواب ہی رہے گا۔ پراکسی جنگیں، اسلحے کی تجارت اور سیاسی اثرورسوخ کی کشمکش نے اس خطے کو ایک مستقل بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکا اور دیگر علاقائی طاقتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے کھیل میں مصروف ہیں، مگر اس کھیل کی قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پوری انسانیت کے لیے آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم نے ترقی، ٹیکنالوجی اور علم میں کتنا سفر طے کر لیا ہے، مگر اخلاقیات اور انصاف کے میدان میں ہم اب بھی ابتدائی دور میں کھڑے ہیں، اگر طاقت ہی سب کچھ ہے تو پھر قانون، معاہدے اور انسانی حقوق محض الفاظ ہیں، مگر اگر دنیا نے اس روش پر نظرثانی نہ کی تو تاریخ کا فیصلہ بے رحم ہوگا، اور آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال کریں گی کہ جب غزہ جل رہا تھا، ایران سسک رہا تھا اور مشرقِ وسطیٰ لہولہان تھا، تو تم کہاں تھے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ اسرائیل کی کر رہے ہیں نہیں بلکہ کے درمیان کے لیے ہے اور اور اس رہا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف